نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

انصاف نہ ہو تو دنیا ویران ہو جاتی ہے

کہتے ہیں کہ ایک طوطا طوطی کا گذر ایک ویرانے سے ہوا، ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے پوچھا، کس قدر ویران گاؤں ہے، طوطے نے کہا، لگتا ہے یہاں کسی اُلو کا گذر ہوا ہے. جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھے، عین اس وقت ایک الّو بھی وہاں سے گذر رہا تھا، اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے مخاطب ہو کر بولا، تم لوگ اس گاؤں میں مسافر لگتے ہو، آج رات تم لوگ میرے مہمان بن جاؤ، میرے ساتھ کھانا کھاؤ. اُلو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نہ کر سکا اور انہوں نے اُلو کی دعوت قبول کر لی. کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ہونے کی اجازت چاہی تو اُلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا، تم کہاں جا رہی ہو. طوطی پرشان ہو کر بولی یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے، میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رہی ہوں. الو یہ سن کر ہنسا اور کہا، یہ تم کیا کہ رہی ہو، تم تو میری بیوی ہو. اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے اور گرما گرمی شروع ہو گئی، دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تو اُلو نے طوطے کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں، قاضی جو فیصل...

ماں اور ماں کے جذبات

*ننھی دکان* میں نے دیکھا کہ ماں اپنے بیٹے کو آہستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی۔ میں نے آگے ہو کر پوچھا بہن کیوں بچے کو مار رہی ہو جبکہ خود بھی روتی ہو۔۔۔۔۔ اس نے جواب دیا کہ بھائی آپ کو تو معلوم ہے کہ اس کے والد اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اور ہم بہت غریب بھی ہیں۔ میں لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتی ہوں اور اس کی پڑھائی کا مشکل سے خرچ اٹھاتی ہوں۔ یہ کم بخت سکول روزانہ دیر سے جاتا ہے اور روزانہ گھر دیر سے آتا ہے۔ جاتے ہوئے راستے میں کہیں کھیل کود میں لگ جاتا ہے اور پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ نہی دیتا۔ جس کی وجہ سے روزانہ اپنی سکول کی وردی گندی کر لیتا ہے۔ میں نے بچے اور اس کی ماں کو تھوڑا سمجھایا اور چل دیا۔۔۔۔ ایک دن صبح صبح سبزی منڈی کچھ سبزی وغیرہ لینے گیا تو اچانک میری نظر اسی دس سالہ بچے پر پڑی جو روزانہ گھر سے مار کھاتا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بچہ منڈی میں پھر رہا ہے اور جو دوکاندار اپنی دوکانوں کے لیے سبزی خرید کر اپنی بوریوں میں ڈالتے تو ان سے کوئی سبزی زمین پر گر جاتی اور وہ بچہ اسے فوراً اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیتا۔ میں یہ ماجرہ دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو...

کاش یہ بات ہر کوئی سمجھ سکے

ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﭻ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﺐ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺳﭩﯿﮉﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﯿﻤﺮﮦ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﭩﯿﻨﮉ ﭘﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮕﯽ ﭼﮭﺘﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﯿﻦ ﻣﻨﻈﺮ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﭘﺎ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ، ﺷﺎﯾﺪ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﮨﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﯾﺎ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﺑﺮﺳﺎﺗﯽ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﯽ ﮨﻮ۔ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﭩﯿﮉﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﯾﺎ ﺑﺮﺳﺎﺗﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﯽ؟ ﺟﻮﺍﺏ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﭻ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻓﻮﺭﮐﺎﺳﭧ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮑﺎﺭﯼ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ، ﭨﯽ ﻭﯼ ﯾﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﻘﯿﻦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﭻ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﮔﯽ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮐﺮﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺗﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮭﯿﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺍ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﯾﻌﻨﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﻧﺒﯽ ﷺ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻓﻮﺭﮐﺎﺳﭧ ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﻧﺎﻣﮧ ﮨﻮﮔﺎ، ﮐﻦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﭘﮑﮍ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻦ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﭨﮭﺘﺎ ...