نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مئی, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

دل

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں انسان اگر کوئی بادشاہ تمہارے گھر آنے کا ارادہ کرے تو تم ہفتہ بھر پہلے گھر کو رنگ وروغن کرو گے اسے صاف ستھرا رکھو گے تاکہ بادشاہ تمہارے گھر سے خوش مطمئن ہو کر جائے تو پھر انسانوں جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے جس کا رہنے کا گھر تمہارا دل ہے تو اپنے دل کا خیال کیوں نہیں رکھتے اپنے دل کو صاف ستھرا کیوں نہیں رکھتے انسانوں اپنے دل سے بڑی خصلتیں جیسے حسد تعصب خدا کی نافرمانی اور نفرت وغیرہ نکال کر باہر پھینک اس میں محبت کا بیچ ڈالو تاکہ تمہارے دل میں اس کی عظیم ہستی کی محبت پیدا ہو

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں

لوگ بیماری کی وجہ سے غذا تو چھوڑ دیتے ہیں لیکن عذاب الہی کی وجہ سے گناہ نہیں چھوڑتے ذلت اٹھانے سے بہتر ہے تکلیف اللہ تعالی کا خوف سب سے بڑی دانائی ہے کس بات سے دوسروں کو روکتے ہو خود بھی نہ کروں تکبر علم اور غصہ عقل کا دشمن ہے ہنر انسان کا سب سے بڑا دوست ہے حسن اور نیک عمل اور عورت خدا کا بہترین تحفہ ہیں شکستہ قبروں پر غور کرو گے کیسے کیسے حسینہ کی مٹی خراب ہو رہی اس نے ایک قدرتی قانون ہے جو مخصوص انسان کے فائدے کے لیے بنا ہے جس سے زیادہ کو مٹی محسن نہیں

دعا

میرے اللہ مجھے عطا کر وہ اس جو ہر دل میں جائے میں بھٹکوں چاہے دربدر میری منزل پہلے تیرا ہی گھر میری ذات تو گناہوں سے گئی بھر تیرا شیوا ہے تو کردے درگزر میری بگڑی بھی جائےسنور بس تو کر دے کرم کی نظر میرے دونوں جہاں بھی جائیں سنور  اور اگر موت دے دے تو ایمان پر تجھ تک پہنچے جو ساری فضا چیر کر یا الہی میری دعا کو کر دے اتنا پر اثر

تعبیر

یہ زندگی نہیں ہے آسان بس اتنا سمجھ لینا ہے زندگی   کیف و سرور میں ڈوبا ہوا ایک ایسا لمحہ ہے جسے سمجھتے سمجھتے لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں اگر دنیا میں کوئی غم آجائے تو مایوسی کا ہالا سنتے کو ملتا ھےیہ ایسی تاریکی ہے جو انسان کو اس کے وجود کے ساتھ لے ڈوبتی ہے اسلئے بیزارگی کے عالم میں اس کا استقبال نہ کرو وہ اچھے دنوں کی یقین کو اپنے قلب و جگر میں جگہ دو کہ انہیں کے سہارے آج کتنے لوگ زندگی میں سرخرو ہیں اپنے آپ کو اتنا بلند کرو کہ لوگوں کی نگاہوں میں تمہارے لئے رشک سے اٹھ جائے یہ نگاہیں اس بات کا ثبوت ہوگی کہ ہر غم کے بعد خوشی کی لہر ضرور آتی ہے اور اس خوشی کی زندگی میں بھی آپ عاجزی اور انکساری کے زیور سے آراستہ ہو یہی زندگی ہےں

ماں کی شان ایک نظر میں میں

ماں کے منہ سے نکلی ہوئی ہر دعا اللہ تعالی کو بھی ماننی پڑتی ہے ماں کے قدموں تلے جنت ہے ماں کی محبت جنت جانے کی ضد ہے ماں میری دنیا کی عزیز ترین ہستی ہے ماں کی آغوش انسان کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اگر یہ دنیا آنکھیں تو ماں اس کی بینائی ہے اگر دنیا بھول ہے تو ماں اس کی خوشبو ہے میں انسان کو سب سے زیادہ پیار کرنے والی ہستی ہے ماں کا دوسرا نام جنت ہے اور ماں کے بغیر کائنات نامکمل ہے ماں کی دنیا میری کامیابی کا راز ہے ماں کے بغیر گھر قبرستان کی مانند ہے

غم اور مسکراہٹ

ہم ایسے نہیں ہوتے کہ انہیں آنسوؤں میں سجا کر دوسروں کے سامنے پیش کردیا جائے یہ تو دل کے لیے ہیں اور دل ہی دل میں کھیلتے ہیں اور پروان چڑھتے ہیں جب ہم کوشش کرتے ہیں زمانے والا کوئی نہیں ملتا کیونکہ یہ دنیا تو خوشیوں کی ساتھی ہے اس نے کب روتے ہوئے چہروں کو ہنسایا ہے بلکہ ہمیشہ ہنستے ہوئے غموں کو دل میں چھپا کر لبوں پر مسکراہٹ سجائے اور اپنی زندگی کے دن پورے کریں

مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات

اللہ کے پاک بندوں کو اپنے جیسا مت سمجھو موت کا ایک وقت مقرر ہے اور یہ مقررہ جگہ پر آکر رہتی ہے اگر شیر کی گردن میں زنجیر پڑی ہو تو وہ بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تمام جانوروں کا سردار ہوتا ہے موسم بہار آتا ہے تو خاک سے سبزہ اور پھول پھوٹ پڑتے ہیں لیکن پتھر اس وقت بھی سر سب نہیں ہوتا اگر سربلندی چاہتے ہو تو خاک بناؤ پتھر نہ بنا دوستوں کے پاس خالی ہاتھ جانا ایسے ہے جیسے آٹے کی چکی پر گیہوں کے بغیر جانا اہل حق کی برکت سے بیابان بھی گلزار بن جاتے ہیں عشق مذہب تمام دینوں سے جدا ہے عاشقوں کا مذہب و ملت ہرف خدا ہے