نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

۔۔ معزز عدالت کا راز فاش کرنے کے جرم کی سزا

جج درخواست گزار سے۔تمہیں طلاق کیوں چاہئے؟
 درخواست گزار ، جناب میری بیوی مجھ سے لہسن چھلواتی ہے پیاز کٹواتی ہے ، برتن دھلواتی ہے۔۔
 جج تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ لہسن چھیلنے سے پہلے تھوڑا سا گرم کر لیا کرو آسانی سے چھیلا جائے گا ، پیاز کاٹنے سے پہلے تھوڑی دیر فریزر میں رکھ دیا کرو کاٹتے ہوئے آنکھوں میں جلن نہیں ہو گی ، برتن دھونے سے پہلے پانی کے ٹب میں چند منٹ کے لئے پانی میں بھگو دیا کرو آسانی سے صاف ہو جائیں گے ، کپڑے سرف میں بھگونے سے پہلے سادہ پانی میں بھگو لیا کرو داغ آسانی سے نکلیں گے اور ہاتھوں کو تکلیف بھی نہیں ہو گی
 درخواست گزار ، بس جناب میں سمجھ گیا۔۔۔
 جج کیا سمجھ گئے؟؟؟
 یہی کہ آپ کی حالت مجھ سے بھی زیادہ بری ہے آپ کی بیوی لہسن پیاز اور برتنوں کے علاوہ آپ سے کپڑے بھی دھلواتی ہے۔۔۔
 جج۔۔۔ معزز عدالت کا راز فاش کرنے کے جرم میں یہ عدالت تمہیں پانچ سال قید با مشقت کی سزا سناتی ہے۔۔۔😅😜😀😂😂

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...