آج بہت خاموشی اور آ داسی سی ھے ۔نجانے یہ حساس لوگ کیوں ہوتے ہیں دنیا میں۔اللہ کے کام ہیں۔ بے شک ک کچھ نہیں کہہ سکتے ہے لازماً کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے جبہی اللہ تعالی نےاس مخلوق کو تخلیق کیا ھے۔ حساسیات انسانوں میں بھی ہوتی ہے اور جانوروں میں بھی۔جانوروں میں شاید ہوتی ہو۔ پر آپ نےانہیں کبھی بھی نوٹ نہیں کیا ھو شاید۔ خیر تجربہ ہے اب تک کا انسانوں میں حساسیت کیا ہے جو انسان بہت زیادہ حساس ہوتا ہے اور سب سے زیادہ دکھی رہتا ہے ۔اپنے ارد گرد کے لوگوں کے رویوں سے وہ انہیں رو ک نہں سکتا۔نہ جواب دے سکتا ہے ۔اور نہ ہی ہیں کچھ کہنے سے روک سکتا ہے یہ خاموشی بھی خاموشی ہی خاموشی۔ صرف اور صرف خاموشی اور صرف جو بھی شکایت ہے اللہ سے کرنی ہے کسی بندے سے نہیں کرنی اور برداشت کیے جاتے ہیں کہ جاتے ہیں کہ جاتے ہیں اور آخر میں کیا ہوتا ہے وہ اندر سے اتنے بیمار ہوجاتے ہیں یہ بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ۔اس کا کوئی علاج نہیں ہوتا لاعلاج مرض بن چکا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے اللہ تعالی سے نہ کوئی شکوہ نہ کوئی شکایت ہے اور مجھے بھی اللہ تعالی نے اپنے ان بندوں میں شامل کردیا جو بہت زیادہ حساس ہوتے ھیں، کہیں اپنے ماں باپ کی تکلیفوں کی حساسیت کے ہم بیٹیاں ہو کر ان کی مدد نہیں کر سکتے ان کا بیٹوں کی طرح خیال نہیں رکھتے انہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے ان کی خدمت نہیں کر سکتے ۔کہ سسرال میں یہ ممکن نہیں ،مردوں کی طرح کام نہیں کرتے ہم اپنی خواہشات کو اپنے گرد جمع کر تےہیں ۔انہیں پورا کرنے کی اوقات نہیں اور اپنی خودداری کو کسی بند کمرے میں سٹوروم میں پڑی ہوئی کیسءصندوق میں بند کر دیتے ہیں ۔ جہاں اسے وہ سالوں نہیں کھولتے اور پڑے پڑے اس خود داری کو دیمک چاٹ جاتی ہے ہے اور ہم بے شرموں کی طرح منہ پھاڑ کر کر ہر چیز اپنی ضرورتیں کو بولتے رہتے ہیں ہیں کہ میں فلاں چیز چاہیے فلاں چیز چاہیے غیرت تو ہماری کہیں منتشر چکی ہوتی ہے ۔اسی لیے میرا خیال ہے کے خواتین کو بھی اپنے پیروں پر لازمی کھڑا ہونا چاہیے اپنے اخراجات کم سے کم خود اٹھائے۔ بے شک اللہ تعالی نے شوہر کا بہت بڑا درجہ رکھا ہے ہے اللہ تعالی نے اسے ہمارا سرپرست بنایا ہے ہمارے سر کا سایہ بنایا ہے اللہ سلامت رکھے بس اندر سے ایک بندش کا احساس اپنے آپ کا بے مایا ھونے کا احساس اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کو دباتے دباتے زندگی گزار دینا۔ اپنے اخراجات کو خود اٹھانے کا زریعہ ہونا چاہیے اور شوہر کی عزت میں کمی نہیں ہونی چاہیے لیکن اپنے لئے کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرنا چاہیے ہے جو اپنا خرچہ بھلے نہ اٹھائے ۔ گھر میں کنٹریبیوٹ نہ کرے لیکن اس کے اندر جو خود داری ہے جو اللہ تعالی نے اس کے اندر پیدائشی رکھی ہے وہ جب وہ خود داری مر جاتی ہے تو عورت ختم ہو جاتی ہے اندر سے ہے۔
<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں