نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پتا ھے مرد شادی کیوں کرتا ھے

پتا ہے مرد شادی کیوں کرتاہے..؟ ‘ مہینے بعد حساب کرو تو بیوی کا خرچاچار باہر والی عورتوں سے زیادہ ہوتا ہے لیکن مرد پھر بھی شادی کرتا ہے‘ شادی پر لاکھوں کا خرچا اور ہمت سے زیادہ بیویوں کے ٹشن پورے کر کے دکھاتا ہے‘ اس کے لئے چھت ڈھونڈتا ہے‘ اس کے آرام کےلئے جتن کرتا ہے‘ دھوپ میں کڑھتا ہے‘ محنت کی بھٹی میں جلتا ہے‘ کبھی ضرورت پڑے تو اس کےلئے کبھی اپنا انا بیچ دیتا ہے اور کبھی اپنی چمڑی بیچ دیتا ہے ‘پتا ہے کیوں؟ تم پوچھو نا کیوں...؟
بیٹی: ڈرتے ڈرتے ماں سے پوچھتی ہے‘ کیوں؟ ماں: کیونکہ مرد کی یہ والی عادت خدا جیسی ہے‘ اب دیکھو نا خدا کو کیا ضرورت تھی کھربوں انسان پیدا کرتا..؟ اور پھر ان کے کھانے پینے رہنے کی چیزیں مہیا کرتا..؟ لیکن شاید ضرورت تھی اسے‘ وہ چاہتا تھا کہ کوئی مخلوق ایسی ہو جو عبادت کرے اس کی‘ جو سجدہ کرے اس کے نام پر‘ پھر جتنی کوئی عبادت کرے گا اس کی وہ اتنا ہی خیال رکھے گا اس کا.. اور سب کچھ دے دینے کے بعد کہا کہ میں رحمٰن ہوں ‘ میں رحیم ہوں‘ سب گناہ معاف کروں گا لیکن شرک کبھی معاف نہیں کروں گا.. بس خدا نے اپنی یہی عادت مرد کے خون میں ڈال دی ہے جس طرح اسے اپنی مخلوق سب سے پیاری ہے نا‘ اسی طرح ہر اچھے مرد کو اپنی بیوی بہت پیاری ہوتی ہے..
وہ خدا نہیں ہے لیکن اس کےلئے سب کچھ کرتا ہے‘ یا پھر کرنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی غلطیوں کو بھی معاف کر دیتا ہے....!!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...