نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہنسی مزاح

ٹرین کے ایک پورے ڈبے میں بارات بیٹھی تھی. ایک آدمی کو جب کہیں جگہ نہ ملی تو وہ بھی ٹرین کے اسی ڈبے میں آ کے بیٹھ گیا. ٹرین چل پڑی. کچھ دیر بعد باراتیوں نے ایک ڈبہ کھولا اور اس میں سے میٹھے چاول نکالے اور ساری بارات کو دیے. لیکن اس آدمی کو نہ دیے. وہ چپ کر کے بیٹھا رہا کہ کوئی بات نہیں. شاید انہوں نے مجھے دیکھا نہیں. تھوڑی دیر بعد باراتیوں نے ایک اور ڈبہ کھولا اس میں سے برفی نکالی اور ساری بارات میں تقسیم کردی لیکن اس آدمی کو نہ دی. اسے بہت غصہ آیا کہ ایک میں ہی باہر کا آدمی ہوں مجھے بھی دے دیتے تو کیا تھا. لیکن وہ ضبط کر کے بیٹھا رہا. باراتیوں نے لڈو نکالے اور سب کو ایک ایک لڈو دیا. لیکن اس آدمی کو نظر انداز کردیا. آدمی کو بہت غصہ آیا اور وہ کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا۔
"اللہ کرے اس ڈبے پر بجلی گرے اور تم سب مرجاؤ ".
باراتیوں میں سے ایک سیانا آدمی کھڑا ہوا اور بولا.
"اگر اس ڈبے پر بجلی گری تو تم کیسے بچو گے؟"
اس آدمی نے جواب دیا ... "جیسے چاول، برفی اور لڈو کی دفعہ بچ گیا تھا۔😂

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...