کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔۔۔
خیبر پختون خواہ جانا ہوا جو کہ اس وقت صوبہ سرحد ہوا کرتا تھا۔۔۔
وہاں ایک علاقے میں رواج دیکھا کہ ہر کسی کی 2 یا 3 شادیاں ہیں
یہ حال دیکھ کر ہم کافی حیران ہوئے کہ کیسے گزارہ ہوتا ہوگا اور یہ لوگ اپنی بیگمات کو کیسے ہینڈل کرتے ہونگے۔۔
خیر چونکہ تبلیغی جماعت کے ساتھ گئے ہوئے تھے تو مقامی لوگ کافی عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔۔
ایک مقامی دوست سے جب ذرا بے تکلفی پیدا ہو گئی تو اس اے اپنی حیرت بیان کی۔۔
مگر موصوف نے تو ہمیں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن کر دیا یہ بتا کر کہ ہمارے ہاں سوتن کا کوئی جھگڑا نہیں ہوتا اور جس کی صرف ایک شادی ہو اسے تو علاقے میں کوئی بھی توقیر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔۔
اس کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ایک شادی والا یا تو انتہائی غریب ہوتا ہے یا اس میں کوئی مردانہ عیب۔۔
نہیں تو سب کی ایک سے زیادہ شادیاں ہوتی ہیں اور سب بیگمات آپس میں انتہائی مل جل کر رہتی ہیں بہنوں کی طرح کہ ایک ہی گھر میں کتنی بہنیں مل کر رہتی ہیں اور کوئی خاص جھگڑتی بھی نہیں
اور وہ مقامی دوست ہماری حیرت پر حیرت زدہ تھا کہ ہم کیوں اس قدر حیران ہیں
مگر جب ہم نے اپنے ہاں کی صورت حال بتائی تو وہ بہت محظوظ ہوا
اور اس کے نزدیک ہماری صورت حال حیران کن تھی۔۔۔
ثابت ہوا ک معاشرے میں جس رواج کو فروغ مل جائے تو وہ ثقافت کا حصہ بن جاتا ہے
ہمارے ہاں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے رواج اور ثقافت ہندو مت سے بہت متاثر ہیں۔
یہ ہندو مذہب میں ہے کہ مطلقہ اور بیوہ کی دوسری شادی کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے
اور مرد کی دوسری شادی کا تو ہندو مذہب میں کوئی کنسپٹ ہی نہیں ہے
اگر مطلقہ یا بیوہ ہونا کوئی عیب ہوتا تو خدا کی قسم اللہ کے رسول (ص ع و ) کی ذوجیت میں ایک بھی مطلقہ یا بیوہ نا ہوتی
اور دوسری شادی پہلی کی حق تلفی ہوتی تو خدا کی قسم میرے پیارے محبوب(ص ع و )کبھی ایک بیوی کی موجودگی میں دوسرا نکاح نا فرماتے۔۔
میں نے ایک سوالیہ پوسٹ کی تھی جس میں عام آدمی کو سوچنے کا میدان ملتا ہے کہ شادی کے انتظار میں بوڑھی ہوتی لڑکیوں کی تعداد میں اضافے کا کیا تدارک ہے تو ایک صاحب یا صاحبہ( فیسبک پر اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کون صاحب ہے اور کون صاحبہ؟ ویسے سوال سے تو صاحبہ ہی لگ رہی ہیں۔)نے سوال پوچھا کہ کیا آپ اپنی بہن کی سوتن برداشت کر لینگے کیا آپ اپنے بہنوئی کو دوسری شادی کرنے کی اجازت دینگے؟
تو میں نے یہ تمہید اس سوال کے جواب کے لئے باندھی ہے۔۔۔۔
جواب ہے کہ میں کون ہوتا ہوں اس عمل کو نا پسند کرنے والا جس عمل کو خود میرے آقا نے عملی طور پر کر کے دکھایا ہے اور حکم بھی دیا ہے۔۔
میں کیا اور میری اوقات کیا۔۔۔
اللہ کے حلال کیے ہوئے امر کو ہم کیسے ناپسند کر سکتے ہیں۔۔؟
اور آخر میں میں اپنی ان بہنوں سے بھی استدعا کرونگا کہ جن کے شوہر دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں مگر وہ رکاوٹ بنتیں ہیں کہ خدارا ایسا مت کریں اللہ کے حلال کیئے ہوئیے امر کو آپ حرام نہ کریں
ایک سے زیادہ شادیاں یہ مرد کی فطرت ہے اور اگر اسے حلال طریقہ نہیں ملے گا تو پھر مرد کوئی چور راستہ تلاش کرے گا
اللہ اور اللہ کے رسول کی ناراضگی کا آپ سبب مت بنئیے۔۔
حضرت امی عائشہ نے کبھی اپنے شوہر کی کسی شادی پر اعتراض نہی کیا۔۔۔
امہات المومینین کی اس سنت پر عمل کیجیئے۔
دوسری شادی کو رواج دو تاکہ دوسری ایسی عورتیں جن کے نکاح نہیں ہو پا رہے وہ بھی نکاح کر کے ازدواجی زندگی گزار سکیں۔
بقلم خود
Muhammad Ali rajput
شکریہ
خیبر پختون خواہ جانا ہوا جو کہ اس وقت صوبہ سرحد ہوا کرتا تھا۔۔۔
وہاں ایک علاقے میں رواج دیکھا کہ ہر کسی کی 2 یا 3 شادیاں ہیں
یہ حال دیکھ کر ہم کافی حیران ہوئے کہ کیسے گزارہ ہوتا ہوگا اور یہ لوگ اپنی بیگمات کو کیسے ہینڈل کرتے ہونگے۔۔
خیر چونکہ تبلیغی جماعت کے ساتھ گئے ہوئے تھے تو مقامی لوگ کافی عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔۔
ایک مقامی دوست سے جب ذرا بے تکلفی پیدا ہو گئی تو اس اے اپنی حیرت بیان کی۔۔
مگر موصوف نے تو ہمیں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن کر دیا یہ بتا کر کہ ہمارے ہاں سوتن کا کوئی جھگڑا نہیں ہوتا اور جس کی صرف ایک شادی ہو اسے تو علاقے میں کوئی بھی توقیر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔۔
اس کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ایک شادی والا یا تو انتہائی غریب ہوتا ہے یا اس میں کوئی مردانہ عیب۔۔
نہیں تو سب کی ایک سے زیادہ شادیاں ہوتی ہیں اور سب بیگمات آپس میں انتہائی مل جل کر رہتی ہیں بہنوں کی طرح کہ ایک ہی گھر میں کتنی بہنیں مل کر رہتی ہیں اور کوئی خاص جھگڑتی بھی نہیں
اور وہ مقامی دوست ہماری حیرت پر حیرت زدہ تھا کہ ہم کیوں اس قدر حیران ہیں
مگر جب ہم نے اپنے ہاں کی صورت حال بتائی تو وہ بہت محظوظ ہوا
اور اس کے نزدیک ہماری صورت حال حیران کن تھی۔۔۔
ثابت ہوا ک معاشرے میں جس رواج کو فروغ مل جائے تو وہ ثقافت کا حصہ بن جاتا ہے
ہمارے ہاں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے رواج اور ثقافت ہندو مت سے بہت متاثر ہیں۔
یہ ہندو مذہب میں ہے کہ مطلقہ اور بیوہ کی دوسری شادی کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے
اور مرد کی دوسری شادی کا تو ہندو مذہب میں کوئی کنسپٹ ہی نہیں ہے
اگر مطلقہ یا بیوہ ہونا کوئی عیب ہوتا تو خدا کی قسم اللہ کے رسول (ص ع و ) کی ذوجیت میں ایک بھی مطلقہ یا بیوہ نا ہوتی
اور دوسری شادی پہلی کی حق تلفی ہوتی تو خدا کی قسم میرے پیارے محبوب(ص ع و )کبھی ایک بیوی کی موجودگی میں دوسرا نکاح نا فرماتے۔۔
میں نے ایک سوالیہ پوسٹ کی تھی جس میں عام آدمی کو سوچنے کا میدان ملتا ہے کہ شادی کے انتظار میں بوڑھی ہوتی لڑکیوں کی تعداد میں اضافے کا کیا تدارک ہے تو ایک صاحب یا صاحبہ( فیسبک پر اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کون صاحب ہے اور کون صاحبہ؟ ویسے سوال سے تو صاحبہ ہی لگ رہی ہیں۔)نے سوال پوچھا کہ کیا آپ اپنی بہن کی سوتن برداشت کر لینگے کیا آپ اپنے بہنوئی کو دوسری شادی کرنے کی اجازت دینگے؟
تو میں نے یہ تمہید اس سوال کے جواب کے لئے باندھی ہے۔۔۔۔
جواب ہے کہ میں کون ہوتا ہوں اس عمل کو نا پسند کرنے والا جس عمل کو خود میرے آقا نے عملی طور پر کر کے دکھایا ہے اور حکم بھی دیا ہے۔۔
میں کیا اور میری اوقات کیا۔۔۔
اللہ کے حلال کیے ہوئے امر کو ہم کیسے ناپسند کر سکتے ہیں۔۔؟
اور آخر میں میں اپنی ان بہنوں سے بھی استدعا کرونگا کہ جن کے شوہر دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں مگر وہ رکاوٹ بنتیں ہیں کہ خدارا ایسا مت کریں اللہ کے حلال کیئے ہوئیے امر کو آپ حرام نہ کریں
ایک سے زیادہ شادیاں یہ مرد کی فطرت ہے اور اگر اسے حلال طریقہ نہیں ملے گا تو پھر مرد کوئی چور راستہ تلاش کرے گا
اللہ اور اللہ کے رسول کی ناراضگی کا آپ سبب مت بنئیے۔۔
حضرت امی عائشہ نے کبھی اپنے شوہر کی کسی شادی پر اعتراض نہی کیا۔۔۔
امہات المومینین کی اس سنت پر عمل کیجیئے۔
دوسری شادی کو رواج دو تاکہ دوسری ایسی عورتیں جن کے نکاح نہیں ہو پا رہے وہ بھی نکاح کر کے ازدواجی زندگی گزار سکیں۔
بقلم خود
Muhammad Ali rajput
شکریہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں