نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

, یہ آزمائی ہوئی باتیں ہوتی ہیں..

میرے ابا مجھے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ خاندانی اور کمی لوگوں میں فرق ہوتا ہے.
میں چڑ جاتی تھی میں کہتی تھی سب لوگ برابر ہوتے ہیں.. لیکن جب میں باہر نکلی مختلف لوگوں سے میرا سامنا ہوا تو پھر مجھے احساس ہوا ابا سچ کہتے ہیں. نسل ہی انسان کی حقیقت کو نمایاں کرتی ہے. ایک خاندانی انسان ضروری نہیں پیسے اور شہرت کہ نام پے خاندانی ہو ایک خاندانی انسان تو اپنی چھوٹی چھوٹی خصلتوں سے پہچانا جاتا ہے.....
حضرت علی علیہ السلام سے کسی نے کہا فلاں شخص بہت نمازی اور پرہیزگار ہے تو آپ نے فرمایا " مجھے یہ مت بتاؤ کہ کتنا پرہیزگار اور نمازی ہے مجھے یہ بتاؤ اس کہ معاملات کیسے ہیں......"
میں کوئی بہت امیر اور مشہور لڑکی نہیں ہوں. ایک سادہ سی لڑکی ہوں. میں جلد بےوقوف بن جاتی ہوں. میں آسانی سے لوگوں کی باتوں میں آ جاتی ہوں. مجھے اچھے اور غلط کی سمجھ نہیں آتی, مجھے لگتا ہر شخص کے ارادے نیک ہیں اور ہر شخص سچ بولتا ہے......
کیونکہ میں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ اپنے گھر میں گزارا, لیکن جب دنیا داری میں قدم رکھا گھر سے باہر تو احساس ہوا ابا تو سچ کہتے تھے .
خاندانی اور کمی لوگوں میں فرق ہوتا ہے. اب مجھے احساس ہوتا ہے بزرگ ہر بات ٹھیک کہتے ہیں, یہ آزمائی ہوئی باتیں ہوتی ہیں..
ہماری پرورش جیسی ہوئی ہوتی ہے ہم لوگوں کو بھی ویسا سمجھتے 
ہیں..

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...