نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میرے بچپن کے دن

اگر آپ نے،
گولی والی بوتل پی ہوئی ھے،
ریڑھی سے تازہ لـچھے بنوا کر کھائے ہوئے ہیں،
کپڑے کا بستہ استعمال کیا ہوا ھے،
رات کے وقت کالا دھاگہ باندھ کر لوگوں کے گھروں کی کنڈیاں "کھڑکائی" ہوئی ہیں ،
بنٹے کھیلے ہوئے ہیں،
سائیکل کے ٹائر کو چھڑی کے ساتھ گلیوں میں گھمایا ہوا ھے،
شب برات پر مصالحہ لگی "چچڑ" سمینٹ والی دیوار سے رگڑی ہوئی ھے،
دو روپے والا نیلا نوٹ استعمال کیا ہوا ھے،
استاد سے مار کھائی ہوئی ھے،
ریاضي کا مسئلہ اثباتی حل کیا ہوا ھے،
عاد اعظم نکا لے ہوئے ہیں،
پٹھو گرم کھیلے ہوئے ہیں،
سکول کی آدھی چھٹی کا لطف اٹھایا ہوا ھے،
تختی کو گاچی لگائی ہوئی ھے،
گھر سے آٹا لے جا کر تنور سے روٹیاں لگوائی ہوئی ہیں،
سکول کی دیوار پھلانگی ہوئی ھے،
غلے میں پیسے جمع کیے ہوئے ہیں،
سہ پہر چار بجے "بولتے ہاتھ" دیکھا ہوا ھے،
پی ٹی وی پر کشتیاں دیکھی ہوئي ہیں،
چھت پر چڑھ کر انٹینا ٹھیک کیا ہوا ھے،
بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی دیکھا ہوا ھے،
اپنے لینڈ لائن فون کو لکڑی کے باکس میں تالا لگا کر بند کیا ہوا ھے،
میلے میں تین دن تک سائیکل چلتی دیکھی ھے،
کسی دشمن کی دیوار پر کوئلے سے بھڑاس نکا لی ہو،
پانی کے ٹب میں موم بتی والی کشتی چلائی ہو،
سرکاری ہسپتال سے اپنی ذاتی بوتل میں کھانسی والی دوائی بھروائی ہو،
سردیوں میں رضائی میں گھس کر ڈراؤنے قصے سنے ہوں،
سرکٹے انسان کی افواہیں سنی ہوں،
کھڑکھڑاتے ریڈیو پر سیلاب کی تازہ صورتحال ستی ہو،
رسی لپیٹ کر لاٹو چلایا ہو،
سمیع اللہ کو ہاکی کے میدان میں قومی نشریاتی رابطے پر فتح سے ہمکنار ہوتے دیکھا ہو،
گھر کی چھت پر مٹی کا لیپ کیا ہو،
پینٹ پہن کر محلے والوں کی طنزیہ نظروں کا سامنا کیا ہو،
گرمیوں میں چھت پر چھڑکاؤ کیا ہو،
جون جولائی کی تپتی دوپہر میں گلی ڈنڈا کھیلا ہو،
پھولوں کی کڑھائی والے تکیے پر سنہرے خواب دیکھے ہوں ،
گھر کے کسی کونے میں خوش آمدید لکھا ھے،
ٹی وی پر غلاف چڑھایا ھے،
لالٹین میں مٹی کا تیل بھروایا ھے،
ہاتھ والا نلکا چلا کر بالٹیاں بھری ہیں،
ایک روپے میں کریم کی خالی شیشی ری فل کروائی ھے،
یسو پنچو کھیلا ھے،
لڈو کھیلتے ہوئے انتہائی خطرناک موقع پر تین دفعہ چھ آیا ھے،
تختی کے لیے بازار سے قلم خرید کر اسکی نوک بلیڈ سے کاٹ کر درمیاں میں ایک کٹ لگایا ھے،
خوشخطی کے لیے مارکر کی نب کاٹی ھے،
ہولڈر استعمال کیا ھے،
زیڈ اور جی کی نب خریدی ھے،
فلاوری انگلش لکھی ھے،
گھی کے خالی "پیپے" کو تار سے باندھ کر لوکل گیزر کا لطف لیا ھے،
سر پر تیل کی تہہ اور سرما لگا کر خوبصورت لگنے کی کوشش کی ھے،
ون ٹین کیمرہ استعمال کیا ھے،
ٹچ بٹن والی شرٹ پہنی ھے،
اپنے گھر کی سفیدی کی ھے،
آگ میں کاغذ جلائے ہیں،
بالٹی میں آم ٹھنڈے کر کے کھائے ہیں،
رف کاپی استعمال کی ھے،
کھلی لائنوں والا دستہ خرید کر اس پر اخبار چڑھایا ھے،
گندھے ہوئے آٹے کی چڑی بنائی ھے،
الارم والی گھڑی کے خواب دیکھے ہیں،
بلی مارکہ اگر بتی خریدی ھے ،
مرونڈے کی لذت سے سرشار ہوئے ہیں،
کلاس میں مرغا بنے ہیں،
ہمسائیوں کے گھر سے سالن مانگا ھے،
مہمان کی آمد پر خوشیاں منائي ہیں،
سائیکل کی قینچی چلائي ھے،
والد صاحب کی ٹانگیں دبائی ہیں،
سردیوں میں ماں کے ہاتھ کا بنا سویٹر پہنا ھے،
امتحانوں کی راتوں میں " گیس پیپرز" کے حصول کے لیے دوستوں کے گھروں کے چکر کاٹے ہیں،
قائد اعظم کے چودہ نکات چھت پر ٹہل ٹہل کر یاد کیے ہیں ،
چلوسک ملوسک، عمرو عیار، چھن چھنگلو، کالا گلاب اور عنبر ناگ ماریا کی کہانیاں پڑھی ہیں،
فرہاد علی تیمور سے متاثر ہو کر موم بتی کو گھور گھور کر ٹیلی پیتھی حاصل کرنے کی کوشش کی ھے،
کاغذ کے اوپر کیل اور لوہ چون رکھ کر نیچے مقناطیس گھمانے کا مزا لیا ھے،
محلے کے لڑکوں کے ساتھ مل کر پانچ وقت نماز کے منصوبے بنائے ہیں،
صبح سویرے ڈول پکڑے گوالے سے دودھ لینے جاتے رھے ہیں،
برفی کا سب سے بڑا ٹکڑا باوجود گھورتی نظروں کے اٹھانے کی جسارت کی ھے،
لاٹری میں کنگھی نکلی ھے،
سردیوں کی تراویح میں پنکھے چلا کر مسجد سے فرار ہوئے ہیں،
رات کو آسمان کے تارے گنے ہیں،
سائیکل پر نئی گھنٹی لگوائی ھے،
زکام کی صورت میں آستینوں سے ناک پونچھی ھے،
ڈیموں(بھڑ) کو دھاگا باندھ کر اڑایا ہوا ھے،
شہد کی مکھیوں کے چھتے میں پتھر مارا ہوا ھے،
مالٹے کے چھلکے دبا کر اس سے دوستوں کی آنکھوں پر حملہ کیا ہوا ھے،
اور صبح سویرے گلی میں کسی کے درود شریف پڑھتے ہوئے گزرنے کی آواز سنی ھے اسکا ایک ہی مطلب ھے کہ اب آپ بوڑھے ہو رھے ہیں۔
کیونکہ یہ ساری چیزیں اسوقت کی ہیں جب زندگیوں میں عجیب طرح کا سکوں ہوا کرتا تھا لوگ ہنسنے اور رونے کی لذت سے آشنا تھے لڑائی کبھی جنگ کا روپ نہيں دھارتی تھی۔ رشتے اور تعلقات جھوٹی انا کے مقابل طاقتور تھے تب غریب کوئی بھی نہیں ہوتا تھا کیونکہ سب ہی غریب تھے۔ مجھے فخر ھے کہ میرا تعلق اس دور سے ھے جب نہ کسی کے پاس موبائل تھا نہ کوئی اپنی لوکیشن شیئر کر سکتا تھا لیکن سب رابطے میں ہوتے تھے سب کو پتا ہوتا تھا کہ اس وقت کون کہاں ھے کیونکہ سب کا نیٹ ورک ایک ہوتا تھا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...