نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شادی کے بعد کی تبدیلی

بیوی نے اپنے خاوند سے پوچھا۔
۔
شادی کے بعد آپ کو اپنی زندگی میں کیا تبدیلیاں محسوس ہوتی ہیں۔
۔
خاوند۔۔۔ کچھ زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا بس۔
۔
پہلے میں سنگل چارپائی پر سوتا تھا۔اب ڈبل بیڈ پر سوتا ہوں۔
(نیند پھر بھی لاپتہ)
۔
پہلے میری عزت میرے ہاتھ میں تھی اب تمہاری ہاتھ میں ہے۔
(حقیقت دو انداز سے)
۔
پہلے میں من مرید تھا۔ سب کام اپنی مرضی سے کرتا تھا۔
اب زن مرید ہونے کے بعد تمہاری مرضی کا منتظر رہتا ہوں۔
(محبت کا تقاضہ)
۔
پہلے سب لوگ دعوت پر مجھے خصوصی مدعو کرتے تھے۔
اب سب لوگ میری بجائے تمہیں خصوصی مدعو کرتے ہیں۔
(رنگ میں بھنگ)۔
۔
پہلے میں باہر کھانا کھا لیتا تھا۔ اب باہر سے کھانا لا کر گھر
کھاتا ہوں۔
(مجبوری)
۔
پہلے مجھے کپڑوں کے نام، ڈیزائن، میک اپ کے سامان کی معلومات نہ تھی۔ شادی کے بعد میں مکمل فیشن ڈیزائنربن
گیا ہوں۔
(میرا تجربہ)
۔
پہلے میرے دوست مجھے روز کال کرتے تھے لیکن اب
مہینے میں ایک بار ان سے بات ہوتی ہے۔
(ڈر)
۔
پہلے میں چائے کے ساتھ پیسٹری کھاتا تھا۔ اب میں اکثر
ڈسپرین کھاتا ہوں۔
(تیری محبت)
۔
شادی سے پہلے میں نے کبھی موبائل پر بھی لون نہ لیا۔
اب جانے کہاں کہاں سے لون لے رکھا ہے۔
(جنون عشق)
۔
اس کے باوجود مجھے زندگی میں کچھ زیادہ تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔
Copy*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...