نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نام نہاد غیرت بھول جاتے ہیں جب کسی اور کی بیٹی کی بات آ تی ہے

اگر اپنی بہن کسی کو پسند کرتی ہو اور ملنے جاتی ہو تو اسے جان سے مار دینا چاہئے..
کیونکہ وہ بدکردار ہے..
اور لڑکا بے غیرت ہے.
لیکن جب کسی کی بہن اپنے ساتھ محبت کا کھیل کھیلے تو وہ دنیا کی سب سے اچھی اور پاکباز عورت لگتی ہے..
شادی سے پہلے کسی لڑکی سے محبت تھی کیونکہ وہ بہت اچھی اور نیک لڑکی تھی..
شادی سے پہلے بیوی کو کوئی پسند کرتا تھا تو بیوی بد کردار..
طوائف بدکردار لیکن اس کے پاس روز جانے والا عزت دار..
کوئی لڑکی کسی لڑکے کی باتوں میں آکر گھر چھوڑ دے تو لڑکا یہ کہہ کر اسے چھوڑ دیتا ہے کہ جب ماں باپ کی نہ ہوئی تو میری کیا ہوگی.
. جب مرد اپنی بیوی کی باتوں میں آ کر ماں کی بے عزتی کرتا ہے اور اسکو گھر سے نکال دیتا ہے تو وہ اچھا شوہر کہلاتا ہے..
اور بیٹا گھر والوں کو خوش کرنے کے لئے بیوی کو بلا وجہ طلاق دے دے مارے زلیل کرے تو وہ فرمانبردار کہلاتا ہے۔
کوئی لڑکی کسی لڑکے سے فون پر باتیں کرتی ہے اور وہ ریکارڈ کر کے دوستوں کو سناتا ہے تو لڑکی بری اور وہ سب عزت دار..
جہیز دو جہیز دو. مگر حق مہر ساڑھے بتیس روپے رکھو..
جہیز لعنت ہے مگر منہ پھاڑ کر لاکھوں کا حق مہر مانگ لو..
ہزاروں مسلمان لڑکیوں سے فلرٹ کریں زنا کر کے تیزاب سے جلا کر قتل کردیں تو وہ لڑکیاں بدکردار.. ایسا کرنے والا لڑکا بھی تو بد کردار ہے۔۔۔
خود کسی لڑکی کی تصویر پر آیٹم، ظالم، قیامت کے کمنٹس دیں گے..
بازار میں نظر آجائے تو بھوکی نظروں سے دیکھیں گے..
کل کو وہی کسی اور کی حوس کا نشانہ بن جائے تو ہر جگہ اس آدمی کو کوستے پھریں گے..
ہم تو مسلمان ہیں. اسلام تو زنا کی سزا دونوں کو دیتا ہے پھر کیوں ہمارے اسلامی معاشرے میں سزا ایک کو ملتی ہے اور دوسرا باعزت بری ہوجاتا ھے؟
میں مردوں کے خلاف نہیں ہوں. مجھے ناانصافی اور منافقت سے نفرت ہے.
تم میں سے کوئی اسوقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے.
دنیا کی ساری دلیلیں جواز، وکالتیں تو ہم اپنی ذات کے لئے رکھتے ہیں.مگر ساری سزائیں دوسروں کے لئے منتخب کرتے ہیں.
ہم ایسے تو نہ تھے. تو پھر اب کیوں ہوگئے؟ مجھے معلوم ہے بہت کم لوگ اس پر مثبت انداز میں سوچیں گے.
خیر کوئی تو سوچے گا.کوئی تو منافقت چھوڑے گا. کوئی ایک تو کوشش کرے گا اپنے آپ سے سچ بولنے کی؟
کوئی ایک تو دونوں کو سزا دینے یا انصاف کرنے کا سوچے گا!!
اور وہ لڑکے جو خود غیر اخلاقی کام کرتے ہیں ''
اگر ان سے سوال کیا جائے..
کیا آپ ایسی لڑکی سے شادی کرنا پسند کرے گے '
جس کی دوستی کسی دوسرے لڑکے سے رہ چکی ہو ؟
تو بنا تاخیر کئے جواب ملے گا ...
کمال کرتے ہو یار ' میں بھلا ایسی گری ہوئی بد کردار سے شادی کر سکتا ہو '
جو پہلے ایسی ہے 'بعد میں بھی ہو گی !!حیرت پاکیزگی کی شرط لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے برابر لاگو ہونی چایئے✌✌💪💪

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...