اللہ تعالیٰ نے انسان کو عین توازن دے کر پیدا کیا ہے۔ کبھی سوچا کہ اگر ہماری سُننے کی، دیکھنے کی یا سونگنے کی طاقت اللہ تعالیٰ زیادہ رکھ دیتا تو کیا ہوتا؟
ہماری سُننے کی قوت اگر زیادہ ہوتی تو ہمارے ذہن متواتر دُور دارز کی گاڑیوں، کارخانوں، لوگوں کے لڑائی جھگڑوں اور کھانسنے وغیرہ کے شور سے تنگ اور بے سکونی کا شکار رہتے اور زندگی اجیرن بن کر رہ جاتی۔
اگر ہماری دیکھنے کی طاقت زیادہ ہوتی تو کسی کی بھی پرائیویسی نہ رہتی اور زندگی بے مزا اور خوف کا شکار رہتی۔
اگر ہماری سونگنے کی طاقت زیادہ ہوتی تو دُور دُور کی بدبو اور خوشبو ہمارے لیے دردِ سر بنی رہتی۔ متواتر اہلِ علاقہ کے کچن اور باتھ رومز کی بدبو ہمارے ذہنوں کو ماؤف کر دیتی اور زندگی بے مزا ہو کر رہ جاتی۔
پس: فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے
ہماری سُننے کی قوت اگر زیادہ ہوتی تو ہمارے ذہن متواتر دُور دارز کی گاڑیوں، کارخانوں، لوگوں کے لڑائی جھگڑوں اور کھانسنے وغیرہ کے شور سے تنگ اور بے سکونی کا شکار رہتے اور زندگی اجیرن بن کر رہ جاتی۔
اگر ہماری دیکھنے کی طاقت زیادہ ہوتی تو کسی کی بھی پرائیویسی نہ رہتی اور زندگی بے مزا اور خوف کا شکار رہتی۔
اگر ہماری سونگنے کی طاقت زیادہ ہوتی تو دُور دُور کی بدبو اور خوشبو ہمارے لیے دردِ سر بنی رہتی۔ متواتر اہلِ علاقہ کے کچن اور باتھ رومز کی بدبو ہمارے ذہنوں کو ماؤف کر دیتی اور زندگی بے مزا ہو کر رہ جاتی۔
پس: فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں