نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پس: فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عین توازن دے کر پیدا کیا ہے۔ کبھی سوچا کہ اگر ہماری سُننے کی، دیکھنے کی یا سونگنے کی طاقت اللہ تعالیٰ زیادہ رکھ دیتا تو کیا ہوتا؟

ہماری سُننے کی قوت اگر زیادہ ہوتی تو ہمارے ذہن متواتر دُور دارز کی گاڑیوں، کارخانوں، لوگوں کے لڑائی جھگڑوں اور کھانسنے وغیرہ کے شور سے تنگ اور بے سکونی کا شکار رہتے اور زندگی اجیرن بن کر رہ جاتی۔

اگر ہماری دیکھنے کی طاقت زیادہ ہوتی تو کسی کی بھی پرائیویسی نہ رہتی اور زندگی بے مزا اور خوف کا شکار رہتی۔

اگر ہماری سونگنے کی طاقت زیادہ ہوتی تو دُور دُور کی بدبو اور خوشبو ہمارے لیے دردِ سر بنی رہتی۔ متواتر اہلِ علاقہ کے کچن اور باتھ رومز کی بدبو ہمارے ذہنوں کو ماؤف کر دیتی اور زندگی بے مزا ہو کر رہ جاتی۔

پس: فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...