کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے موڑ پر لے آتی ہے کہ ہم فیصلہ نہیں کر پاتے کہ آگے بڑھیں یا پیچھے مڑ جائیں ۔ وقت تو آگے ہی جاتا ہے تو مجبوراً آگے جانا پڑتا ہے۔ یا پھر ہم وقت کو آگے بڑھتا دیکھتے رہتے ہیں مگر خود اسی جگہ رکے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے وہ لمحے وہ پل بہت قیمتی ہوتے ہیں ۔
آگے بڑھنے سے شاید ہمارا ساتھ چھوٹ جائے۔ شاید وہ ہاتھ چھوٹ جائے جو ہمارا پسندیدہ ہے۔ مگر ہم کب تک رک سکتے ہیں؟ ہم کب تک وقت سے بغاوت کر سکتے ہیں یا کب تک وقت سے لڑ سکتے ہیں؟ وقت کو تو آگے بڑھنا ہے چاہے وہ ہمیں روند کر ہی کیوں نا آگے بڑھے، اسے بڑھنا ہے۔
ان لمحات میں خوش ہونا چاہیے یا دکھی ہونا چاہیے اس کا بھی فیصلہ ہم نہیں کر پاتے!
آپ ایسے وقت میں کیا کرتے ہیں؟ کیسے اس حالت سے باہر نکلتے ہیں؟ اپنی اپنی رائے دیجیے؟
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں