نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وقت کی جیت

کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے موڑ پر لے آتی ہے کہ ہم فیصلہ نہیں کر پاتے کہ آگے بڑھیں یا پیچھے مڑ جائیں ۔ وقت تو آگے ہی جاتا ہے تو مجبوراً آگے جانا پڑتا ہے۔ یا پھر ہم وقت کو آگے بڑھتا دیکھتے رہتے ہیں مگر خود اسی جگہ رکے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے وہ لمحے وہ پل بہت قیمتی ہوتے ہیں ۔
آگے بڑھنے سے شاید ہمارا ساتھ چھوٹ جائے۔ شاید وہ ہاتھ چھوٹ جائے جو ہمارا پسندیدہ ہے۔ مگر ہم کب تک رک سکتے ہیں؟ ہم کب تک وقت سے بغاوت کر سکتے ہیں یا کب تک وقت سے لڑ سکتے ہیں؟ وقت کو تو آگے بڑھنا ہے چاہے وہ ہمیں روند کر ہی کیوں نا آگے بڑھے، اسے بڑھنا ہے۔
ان لمحات میں خوش ہونا چاہیے یا دکھی ہونا چاہیے اس کا بھی فیصلہ ہم نہیں کر پاتے!

آپ ایسے وقت میں کیا کرتے ہیں؟ کیسے اس حالت سے باہر نکلتے ہیں؟ اپنی اپنی رائے دیجیے؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...