یہ ضیاء دور کی بات ہے کہ پی ٹی وی کے ایک ڈرامہ میں ایک کمرے کا سین ہے - کرسی پر ایک لڑکا بیٹھا ہے اور ایک لڑکی اس کے پاس سے گزرتے ہوے اپنا دوپٹہ اتارتے ہوے یہ کہتے ہوے دوسرے کمرے میں جاتی ہے
میں کپڑے بدل کے ابھی آتی ہیں
دوسرے دن پورے پاکستان میں اس فحاشی کے خلاف مظاہرے شوروع ہو جاتے ہیں جو اس ڈرامے کے بین ہونے اور اداکاروں کے معافی تک چلتے ہیں
آج ایک لڑکی باتھ روم سے نہا کے تولیہ لپیٹے باہر نکل کے اپنے ہی گھر والوں کو اپنی ننگی ٹانگوں کی ملائمیت دیکھا رہی ہوتی ہے - کسی کو کوئی مسلہ نہی -
شادی سے پہلے لڑکا آدھی رات کو دیوار پھاند کے لڑکی کے کمرے میں پایا جاتا ہے - کسی کو کوئی مسلہ نہی -
کھلے عام پورے لوازمات کے ساتھ کنڈمز کے اشتہار چلتے ہیں - کسی کو کوئی مسلہ نہی
کسی بھی چیز کے اشتہار میں لڑکیوں کو نچاۓ بغیر اشتہار بنتا ہی نہی -- کسی کو کوئی مسلہ نہی
ابھی ٹیلی نار کے اشتہار میں ایک لڑکی نہاتے ہوے باتھ ٹب میں لیٹی اپنے موبائل سے ویڈیو کال کر رہی ہے
کسی کو کوئی مسلہ نہیں
برقہ یا حجاب پردہ کی بجاے فحاشی کا ہی ذریعہ بنتا جا رہا - کسی کو کوئی مسلہ نہی
آج سے بیس پچیس سال پہلے جن چیزوں کا تصور بھی ہمارے معاشروں میں نہی تھا آج وہ کھلے عام پائی جاتی ہیں ، دوستو جن چیزوں کو ہم انتہائی قبیح سمجھتے ہیں برا سمجھتے ہیں ان چیزوں کو آہستہ آہستہ ہمارے شعور کے سامنے اس طرح لایا جاتا ہے کہ ہمیں احساس ہی نہی ہوتا لیکن ہمارا لاشعور اسے محفوظ کرتا جاتا ہے
اسی کو ایم کے الٹرا مائنڈ پروگرامنگ کہتے ہیں - آگے اس کے اور بھی بیشمار طریقے ہیں
لیکن آپ دیکھیں کہ پوسٹ کے شروع میں ضیاء دور کا ایک واقعہ بیان کیا ہے اور آج ہم کہاں پہنچ چکے ہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں