ڈاکٹروں کی ہڑتال کا عجیب و غریب نتیجہ۔۔۔۔
کولمبیا میں، سن 1973 میں ڈاکٹروں کی 52 روزہ ہڑتال کے دوران مرنے والوں کی شرح میں 35 فیصد کمی ہوئی۔
سن 1973 میں، اسرائیل میں ڈاکٹروں نے ایک مہینہ ہڑتال کی نتیجتاً مرنے والوں کی شرح میں 55 فیصد کمی ہوئی۔
ڈاکٹروں کی لاس اینجلس میں 1976 کے دوران ہونے والی جزوی ہڑتال کے دوران مرنے والوں کا تناسب 18 فیصد کم ہو گیا۔
اس کا سادہ سا مطلب تو یہی بنتا ہے کہ ڈاکٹروں کا کام کاج جتنا زیادہ ہوتا ہے یا بڑھتا ہے لوگوں کی مرنے کی تعداد اتنی زیادہ ہو جاتی ہے۔
جی، بالکل یہی بات ہے اور یہی خلاصہ ہے پروفیسر ریمنڈ فرانسس کی تحقیق کا، جو کہ موجودہ طریقہ علاج کا ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کے طریقہ کار کو سرے سے مانتے ہی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ طب بیماریوں کے اسباب کا تو علاج ہی نہیں کرتی اور نہ ہی مرض کو انسانی جسم کے خلیوں میں پیدا ہونے والے خلل کے محاسبے یا معالجے پر غور کرتی ہے۔
بس انہوں نے علاج کے دو ہی طریقے پکڑ رکھے ہیں:
پہلا یہ کہ جسم میں خلیوں کو طاقت ور بنانے کیلیئے غذائی اجزاء زیادہ کیئے جائیں تاکہ جو کمزور خلیئے مرض کا سبب بن رہے تھے وہ درست ہو جائیں یا پھر انسانی جسم میں جمع ہو جانے والے زہریلے مواد کا کسی طور پر اخراج کر دیا جائے۔
تاہم پروفیسر ریمنڈ کے مشاہدے اور تحقیق کے مطابق ڈاکٹروں کے علاج سے دوری اور شرح اموات میں کمی کا تعلق درج ذیل باتوں سے ثابت ہوتا ہے:
1: مریضوں کے غیر ضروری آپریشن-
2: بِلا ضرورت دوائیوں کا استعمال جو کہ ڈاکٹر ریمنڈ فرانسس کے مطابق مہلک یا مضر کیمیاوی مرکب یا ایک سے زیادہ مہلک یا مضر کیمیائی مرکبات کا مجموعہ ہوتا ہے جو جسم میں کئی ایک جانبی اعراض (سائیڈ ایفیکٹ) پیدا کرتے ہیں۔
مندرجہ بالا مواد پروفیسر ریمنڈ فرانسس کی کتاب "نیور بی سِک اگین" کے صفحہ نمبر 198 سے لیا گیا ہے۔ کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں انٹرنیٹ پر موجود ہے۔
کولمبیا میں، سن 1973 میں ڈاکٹروں کی 52 روزہ ہڑتال کے دوران مرنے والوں کی شرح میں 35 فیصد کمی ہوئی۔
سن 1973 میں، اسرائیل میں ڈاکٹروں نے ایک مہینہ ہڑتال کی نتیجتاً مرنے والوں کی شرح میں 55 فیصد کمی ہوئی۔
ڈاکٹروں کی لاس اینجلس میں 1976 کے دوران ہونے والی جزوی ہڑتال کے دوران مرنے والوں کا تناسب 18 فیصد کم ہو گیا۔
اس کا سادہ سا مطلب تو یہی بنتا ہے کہ ڈاکٹروں کا کام کاج جتنا زیادہ ہوتا ہے یا بڑھتا ہے لوگوں کی مرنے کی تعداد اتنی زیادہ ہو جاتی ہے۔
جی، بالکل یہی بات ہے اور یہی خلاصہ ہے پروفیسر ریمنڈ فرانسس کی تحقیق کا، جو کہ موجودہ طریقہ علاج کا ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کے طریقہ کار کو سرے سے مانتے ہی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ طب بیماریوں کے اسباب کا تو علاج ہی نہیں کرتی اور نہ ہی مرض کو انسانی جسم کے خلیوں میں پیدا ہونے والے خلل کے محاسبے یا معالجے پر غور کرتی ہے۔
بس انہوں نے علاج کے دو ہی طریقے پکڑ رکھے ہیں:
پہلا یہ کہ جسم میں خلیوں کو طاقت ور بنانے کیلیئے غذائی اجزاء زیادہ کیئے جائیں تاکہ جو کمزور خلیئے مرض کا سبب بن رہے تھے وہ درست ہو جائیں یا پھر انسانی جسم میں جمع ہو جانے والے زہریلے مواد کا کسی طور پر اخراج کر دیا جائے۔
تاہم پروفیسر ریمنڈ کے مشاہدے اور تحقیق کے مطابق ڈاکٹروں کے علاج سے دوری اور شرح اموات میں کمی کا تعلق درج ذیل باتوں سے ثابت ہوتا ہے:
1: مریضوں کے غیر ضروری آپریشن-
2: بِلا ضرورت دوائیوں کا استعمال جو کہ ڈاکٹر ریمنڈ فرانسس کے مطابق مہلک یا مضر کیمیاوی مرکب یا ایک سے زیادہ مہلک یا مضر کیمیائی مرکبات کا مجموعہ ہوتا ہے جو جسم میں کئی ایک جانبی اعراض (سائیڈ ایفیکٹ) پیدا کرتے ہیں۔
مندرجہ بالا مواد پروفیسر ریمنڈ فرانسس کی کتاب "نیور بی سِک اگین" کے صفحہ نمبر 198 سے لیا گیا ہے۔ کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں انٹرنیٹ پر موجود ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں