جہاں اللہ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی
وہاں عورت کو بھی اجازت دی
کہ اگر ان کو گوارا نہیں تو وہ اس آدمی کو چھوڑ کر اسے اپنا لیں جو انھیں پسند ہو
مگر جس معاشرے میں عورت کا اپنی پسند سے شادی کرنا ہی جرم ہو
وہاں کوئی عورت کسی کو نا پسند کر کے اسے چھوڑ کے کسی اور کے ساتھ جا نے کا تصور بھی کیسے کر سکتی ہے
وہ جس کونٹے سے باندھ دی جاتی ہے
اسی کو اس نے قبول کرنا ہوتا ہے
اگر نہیں کرے گی
تو بدچلن کہلاے گی
کوئی بھی مرد بڑی آسانی سے بچوں کو چھوڑ کے دوسری عورتوں کو زندگی میں لے آتا ہے
مگر
کوئی عورت ماں ہو کے تصور ہی نہیں کرتی بچے کے علاوہ کسی آدمی کے ساتھ جانے کا
اگر کوئی عورت سوچ ہی لے اپنی زندگی کا
تو وہ گناہ کبیرہ بنا کے پیش کیا جاتا
یہ سب جو عورت کے اوپر تھوپا جاتا ہے
مذہب کے نام پہ اسلام نہیں
خلیل الرحمٰن کے حساب سے عورت کو بے وفائی اور بے حیائی کا کوئی حق نہیں
جب کے اللہ کے حکم
مرد عورت دونوں کے لیے برابر ہیں
کوئی عورت یہ نہیں کہتی وہ مرد کی برابری کر رہی ہے
وہ صرف یہ کہتی ہے جو کچھ اس کے حقوق ہیں ان کو اسلام کے نام پہ نہ چھینیں
اس بات کی اسلام میں کوئی کنجائش نہیں کہ عورت میں انکار کی صلاحیت ہے
اور مرد میں نہیں
جب کہ حضرت یوسف کی مثال قرآن میں موجود ہے
مرد کو ہر کام میں عورت سے زیادہ صلاحیت دی گئی
بات صرف آپکے نفس کی ہے
کہ کون اللہ کے حکم کی پیروی کرتا ہے
اور کون نہیں
دنیا میں ہر گناہ عورت کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے مگر
آخرت میں نہیں..
<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں