نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

"یا اللہ !!میری بیٹی ماں پہ نہ جائے!ھر لوو میرج کرنے والے مرد کی خواہش

وہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ماں باپ بیچاروں نے بڑے لاڈ و پیار سے اس کی پرورش کی۔جوان ہوئی تو والدین کی رضامندی کے بغیر ایک بس ڈرائیور سے خفیہ نکاح کر لیا۔باپ کو جب پتہ چلا تو بیٹی نے جواب دیا۔
"میرا نکاح ہو چکا ہے،بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں مجھے رخصت کر دیں ورنہ میں خود ان کے پاس چلی جاوں گی؟"
باپ نے کہا کہ اگر آپ کا یہ حتمی فیصلہ ہے تو آپ نے گھر سے جو کچھ لینا ہے،لے لیں اور خود ہی اپنے شوہر کے پاس چلی جاو۔لیکن یہ یاد رکھنا،اب آپ کا ،ہم سے،اور ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔آپ ہمارے لیے مر گئیں اور ہم اپ کیلیے؟"
وہ خوشی خوشی سامان پیک کرکے اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔تقریبا آٹھ سال بعد اس کی ملاقات ایک قریبی عزیز سے ہوئی اور وہ اسے اپنے گھر لے آیا۔
• خیر خیریت دریافت کرنے کے دوران اس نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔وہ سمجھا کہ شاید گھر کے حالات صحیح نہیں ہوں گے۔والدین کی نافرمانی اور جدائی کا پچھتاوا اسے رلائے جا رہا ہو گا ۔تمام گھر والے اسے دلاسے دینے لگے اور رونے کی وجہ دریافت کرنے لگے۔بہت اصرار کے بعد اس نے رونے کی وجہ بتائی۔وہ کچھ یوں گویا ہوئی۔
• "میں نے والدین کی نافرمانی کی،ان سے تمام تعلقات ختم ہو گئے۔اس کا پچھتاوا تو مجھے ساری زندگی رہے گا ۔مالی لحاظ سے بھی مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔
• لیکن میرے لیے جو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہے وہ کچھ اور ہے۔میری صرف ایک ہی بیٹی ہے۔میرے شوہر جب نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتے ہیں تو میں نے چپکے سے کئی بار ان کی دعا سنی ہے۔وہ روتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے اللہ پاک سےصرف ایک ہی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔
• "یا اللہ !!میری بیٹی ماں پہ نہ جائے!
• یا اللہ !!میری بیٹی ماں پہ نہ جائے!
• یااللہ!!یہ اپنی ماں کی طرح گھر سے بھاگ کے کبھی شادی نہ کرے۔یہ اپنی ماں کی طرح اپنے والدین کی عزت کو کبھی رسوا نہ کرے!!!""
• یہ دعا تمام لڑکوں اور لڑکیوں کیلیے ایک پیغام ،ایک نصیحت اور ایک اعلان ہے۔
• نوٹ یہ واقعہ بالکل سچا ہے۔واقعات بتانے کا انداز تبدیل کیا ہے۔ہمارا مقصد صرف پیغام پہنچانا ہے۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...