نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سورۃ فاتحہ کے خواص



شیخ تمیمی کے بعض تلامذہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ملتان میں سخت وباء پھیلی تو شیخ تمیمی نے اپنے اصحاب کو حکمم دیا سورۃ فاتحہ بسم اللہ کے وصل سے پڑھو
 💔وصل مطلب ہے ملا کر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔رحیم کے 💔م💔کو الحمدللہ کے لام سے ملا کر پڑھنے
 کو وصل کہتے ہیں 💔
💔اس طرح ملحمد 💔
اور مریضوں پر دم کرو چنانچہ ایسا ہی کیا اللہ تعالیٰ نے شفاء عطاء فرمائی
فتاوی صوفی میں ہے اگر سورة فاتحہ 41مرتبہ پڑھ کر مریض پر تھتھکارنے سے بحکم الہیٰ مریض صحتیاب ہوجاتا ہے
💕 سورۃ فاتحہ 💕 ہر بیماری سے شفاء ۔۔۔۔!!!!

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر جہاد میں گئے ہوئے تھے ، دوران سفر ان کا گذر ایک عرب قبیلہ پر ہوا جن سے انہوں نے عرب روایات کے مطابق اپنی مہمان نوازی کی درخواست کی لیکن انہوں نے کسی وجہ سے انکار کردیا ، اسی دوران اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے ڈس دیا جس سے وہ بیمار ہوگیا اس پر اس قبیلہ کے لوگوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس جماعت سے دریافت کیا کہ تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو ان کا علاج کرے ، اور کچھ پڑھ کر ان پر دم کرے ، اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عہنم نے فرمایا کہ اس کا علاج تو ہم جانتے ہیں لیکن چونکہ آپ نے ہماری مہمان نوازی سے انکار کیا ہے اس لئے جب تک آپ ہمیں کچھ معاوضہ کا وعدہ نہ کریں ہم اس کا علاج نہیں کرسکتے ۔ بالآخر وہ لوگ اس سردار کے علاج کے عوض ان کو تین بکریاں دینے پر راضی ہوگئے ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے 7️⃣ سات مرتبہ صرف سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس سردار پر دم کیا اور وہ شخص شفایاب ہوگیا ، اس واقعہ کی اطلاع حضور ﷺ کو ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا تم نے جو کیا اچھا کیا ۔

🌲 (ابو داؤد ) 🌲

، حدیث کا مفہوم،
جو کوئ سونے کےوقت اس سورۃ کو مع سورۃ اخلاص ، اور معوذ تین !
پڑھا کرے تو وہ سواۓ موت کے باقی ھر چیز سے یعنی ھر آفت سے امن میں رھے گا،
اور فرمایا کہ .
ام القرآن شفاء ہے ھر ایک درد و آزار کےلیے

ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین بھی آپ ﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑے بڑے احسانات کئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی ﷺ پر نہیں کئے ۔
پھر فرمایا میں بیٹھا ہوا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے محمد ﷺ !
اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ میں نے تیرے پاس اپنی کتاب بھیجی اور اس کتاب میں ایک سورة ایسی بھیجی ہے کہ اگر وہ سورۃ تورات میں ہوتی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے کوئی شخص یہود نہ ہوتا ۔
اور اگر یہ سورہ ، انجیل میں ہوتی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے کوئی شخص نصرانی نہ ہوتا
اور اگر یہ سورۃ زبور میں ہوتی تو حضرت داؤد علیہ السلام کی امت میں کوئی شخص مغ ( بت خانہ کا خادم ) نہ ہوتا ۔
یہ سورۃ میں نے قرآن میں اس لیے اتاری ہے کہ تیرے امتی اس سورہ کی تلاوت کی برکت سے قیامت کے روز دوزخ کے عذاب سے اور قیامت کی ہولناکیوں سے بچ جائیں ۔
جبرائیل علیہ السلام نے مزید فرمایا اے محمد ﷺ !
اس خدا کی قسم جس نے تجھے تمام کائنات کت لئے برحق نبی ﷺ بنا کر بھیجا ہے اگر روئے زمین کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام عالم کے درخت قلم بن جائیں اور سات آسمان اور سات زمینیں کاغذ بن جائیں پھر بھی ابتدائے عالم سے قیامت تک لکھتے رہنے کے باوجود اس سورۃ کی فضیلتیں نہیں لکھی جا سکیں گی۔
اس کے بعد خواجہ ادام اللہ بقا ء نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ تمام دردوں اور بیماریوں کے لیے شفا ہے ۔
جو بیماری کسی علاج سے ٹھیک نہ ہوتی ہو تو سورہ فاتحہ کو صبح کے فرضوں اور سنتوں کے درمیان بسم اللہ شریف کے ساتھ اکتالیس بار پڑھے اور پھونک مارے اللہ تعالیٰ اسے اس سورۃ کی برکت سے شفا بخشیں گے ۔
خواجہ معین الدین چشتی ؒ دلیل العارفین صفحہ 61
  1 گھر میں داخل ہو کر ایک بار سورہ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھ لیں تو فقر و فاقہ دور ہو جاتا ہے اور گھر میں برکت آجاتی ہے

 2ہر بیماری کے لئے چالیس بار پڑھیں اور پانی پر دم کر کے پی لیں

 3اسیری سے رہائی کے لئے ایک سو اکیس بار پڑھیں

 4 رزق، قرضہ کی ادائیگی اور حلال وافر مال کے لئے تین سو چونسٹھ بار پڑھیں… اور ساتھ اتنی ہی تعداد میں سورہ اخلاص اور اتنی ہی تعداد میں درود شریف

 5 فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان چالیس دن تک روز چالیس بار یا اکتالیس بار پڑھنا ہر بیماری کا علاج ہے،خواہ کتنی بڑی بیماری ہو

  6اگر اولاد نافرمان ہو، خاوند نشے اور گناہوں کا عادی ہو تو پانی پر سورہ فاتحہ پڑھیں جب’ ’اِھْدِنَا‘‘ کے لفظ پر پہنچیں تو اسے ستر بار پڑھ کر سورت مکمل کریں اورپانی اولاد یا خاوندکوپلادیں

 7 نسیان یعنی بھولنے کی بیماری، عقل کی خرابی، سستی وغیرہ دورکرنے کے لئے کسی برتن پر سورہ فاتحہ لکھیں، پھر اسے بارش کے پانی سے دھو لیں پھر اس پر سات بار سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کر کے پی لیں…
8 سورة فاتحہ کا ایک خاص الخاص ورد… ’’الغزالی‘‘کہلاتاہے…اہل علم نے اس ورد کے فضائل پر اشعار اور نظمیں لکھی ہیں… یہ ورد ہر طرح کی حاجات،ہر طرح کی پریشانیوں اورہر طرح کی مصیبتوں سے چھٹکارے کا ذریعہ ہے…
9کچھ عرصہ پابندی سے کریں تو انسان نہ کسی کامحتاج رہتا ہے اور نہ کوئی اسے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے، اور قرضہ کی ادائیگی کے لئے بھی مجرب ہے… اس میں سورہ فاتحہ فجر کے بعد تیس بار، ظہر کے بار پچیس بار، عصر کے بعد بیس بار، مغرب کے بعد پندرہ بار اور عشاء کے بعد دس بار پڑھیں… اور مزید دس بار کسی بھی وقت پڑھ لیں…
10کوئی عزیز سفر پر گیا ہو اوراس کی بخیر واپسی مطلوب ہو تو اکتالیس بارسورہ فاتحہ پڑھ کر دعا کریں…

 11سانپ، بچھو نے کاٹا ہو تو سات بار سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کریں، کسی کی صلح کرانے کے لئے جارہے ہوں تو چند بار پڑھ لیں، صلح آسان ہو جائے گی… کسی بھی حاجت کے لئے پڑھنا ہو توایک ہزار بار یاایک ہزار گیارہ بار پڑھ لیں… ویسے روزآنہ ایک ہزار بارکا وردرکھنا عجیب تأثیرات رکھتا ہے…
12۔
ﺳﻮﺭۂ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮﻟﻮ .
ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮦ ﮈﺍﻻ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
ﻋﻼﺝ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﮐﮧ ’’ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ ‘‘ ـ
ﯾﮧ ﺳﻮﺭۂ ﺳﻮﺭۂ ﺷﻔﺎﺀ ﮐﮩﻼﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ ‘
ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﻟﯿﮟ ۔
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟؟؟
ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺌﯿﮟ ﺳﻮﺭۂ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﺩﻡ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﭘﺌﯿﮟ۔

جاری ہے
انشاءاللہ اگلی پوسٹ میں بقیہ
کم از کم سات گروپ میں پوسٹ شیئر کریں
جزاک اللہ
اجازت کےلیے تین۔بار سورة فاتحہ پڑھ کر سبحان اللہ کمنٹ میں لکھیں 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

بیوی کو کس طرح خوش رکھا جائے۔۔؟

بیوی کو کس طرح خوش رکھا جائے۔۔؟ اہلیہ کو خوش رکھنا گو کہ ہے تو بہت مشکل کام مگر اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے سیانوںکی جانب سے 10 رہنما طریقے بتائے گئے ہیں جن پر عمل کرکے ایک خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ 1۔ ان 10 آسان طریقوں میں سے سب سے پہلا یہ ہے کہ اہلیہ کا موڈ خوشگوار رکھنے کے لیے مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ کسی بھی قسم کا تحفہ ضرور دیا جائے ۔ 2۔ دوسرے نمبر پر آتا ہے بیوی کی باتوں کو اہمیت دینا، آپ کی اہلیہ جب بھی آپ سے کوئی بات کریں تو اپنی تمام تر توجہ ان کی جانب مرکوز رکھیں اور ان کی بات کو غور سے سنیں تاکہ ان کی بات کو ٹھیک سے سمجھا جا سکے۔ 3۔ اس کے بعد باری آتی ہے اہلیہ کی آپ سے اور گھر سے متعلق خدمات کو سرہانے کی، مطلب یہ کہ اپنی اہلیہ کی دن بھر کی مصروفیات سے متعلق کام پر حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی جانب سے پیش کی گئی خدمات کو اچھے لفظوں میں سراہایا جائے۔ 4۔ چوتھا آزمودہ طریقہ ہے کہ اپنی اہلیہ کو اس بات کا بار بار احساس دلایا جائے کہ ان کی اہمیت آپ کی زندکی میں بہت زیادہ معنی رکھتی ہےاور آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو چکے ہ...