نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اس پیسے کو کیا نام دوں

آج ایک دوست نے ان باکس میں سوال بھیج کر مشکل میں ڈال دیا۔
کہتا ہے کہ بڑے لمبے لمبے پوسٹ لکھتے ہو۔ 😲
موٹے موٹے الفاظ استعمال کرتے ہو۔ 😱😲
یہ بتاؤ کہ اس سوال کا کیا جواب ہے۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
انسان نے پیسے کے مختلف نام رکھے ہوئے ہیں، مثلاً
عبادت گاہ میں اسے نذرانہ کہتے ہیں۔
اسکول میں اسے فیس کہتے ہیں۔
دکان پر اسے قیمت کہتے ہیں۔
شادی میں اسے جہیز کہتے ہیں۔
کسی کو واپس کرنے ہوں تو ادھار کہتے ہیں۔
حکومت کو دینا ہو تو ٹیکس کہتے ہیں۔
عدالت میں اسے جرمانہ کہتے ہیں۔
ملازمت ختم ہو تو اسے پنشن کہتے ہیں۔
دفتر، دکان یا کارخانے سے ملے تو تنخواہ کہتے ہیں۔
بنک سے لیں تو قرضہ کہتے ہیں۔
ویٹر کو دیں تو بخشش کہتے ہیں۔
اغواکار کو دیں تو تاوان کہتے ہیں۔
کسی غلط کام کے عوض لیں یا دیں تو رشوت کہتے ہیں۔
پیسے کو ہم اتنے سارے ناموں سے پکارتے ہیں۔
تو پھر ۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ ۔۔۔
کوئی شوہر اپنی بیوی کو جو پیسے دیتا ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟
جب سے سوال پوچھا ہے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا ہوا ہے۔
کوئی ہے جو اس سوال کا جواب بتا کر دماغ کی بتی روشن کرے! 🤔😟😦
جس جواب کو بھی سب سے زیادہ لائک ملیں گے،
اسے اعزازی سرٹیفیکٹ دیا جائے گا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...