نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نماز کا سواد بھی اور ثواب بھی

جب ھم زمین پر سجدہ کرتے ھیں تو بمشکل تین تسبیحات پوری کرتے ھیں اور سر اٹھا لیتے ھیں .....
اس سے نماز تو ھو جاتی ھے مگر رب سے آشنائی نہیں ھوتی ...
ھم نماز میں آٹو Auto پہ لگے ھوتے ھیں
ھم خود نہ جھکتے ھیں
اور نہ اٹھتے ھیں .....
ھم اس دوران کہیں اور مصروف ھوتے ھیں

جیسے پائیلٹ جہاز کو آٹو پائیلٹ پر لگا کر خود سواریوں سے دعا سلام کر رھا ھوتا ھے ـ
یعنی ھم رکوع کو رکوع سمجھ کر ، سجدے کو سجدہ سمجھ کر اور قیام کو واقعی رب العالمین کے سامنے فرمانبرداری سمجھ کرکھڑے نہیں ھوتے بلکہ ھماری کیفیت ٹھیک اس کھلونے کی طرح  ھوتی ھے جس میں سیل ڈال دیئے گئے ھوں اور بٹن آن کر دیا گیا ھو تو وہ خود بخود اوپر نیچے دائیں بائیں لڑھکتا پھرتا ھے ،،

آپ جب کوئی میموری کارڈ کسی ڈیوائس میں ڈالتے ھیں تو وہ ڈیوائس پہلے اس میموری کارڈ کا جائزہ لیتی ھے اس کو پڑھتی اور Recognize  کرتی ھے ،
پھر پوچھتی ھے کہ اس میموری کارڈ کی حقیقت یہ ھے کہ اس میں فلاں فلاں چیز ھے ،فلاں فلاں فولڈر ھے ....
اس کی اتنی سپیس استعمال ھو چکی ھے اور اتنی باقی ھے ....

پھر وہ آپ کو بتاتی ھے کہ سرکار آپ جو مواد اس پر کاپی کرنا چاھتے ھیں وہ کاپی نہیں ھو سکتا کیونکہ اس کارڈ میں جگہ کم ھے جبکہ مواد کا حجم زیادہ ھے ،
آپ کچھ مواد ڈیلیٹ کر کے مناسب جگہ بنائیں ـ

ھم جب سجدہ کرتے ھیں تو زمین اس ماتھے کو ریڈ کرتی ھے اور Recognize کرتی ھے ،
اس پرسیس میں کچھ دیر لگتی ھے ، زمین سادا ھو تو جیبن کو پہچاننے میں تھوڑا وقت لگتا ھے ،
مصلی اور قالین جتنا موٹا ھو گا  جیبن کو زمین سے رابطہ کرنے میں اتنی ھی زیادہ دیر لگتی ھے
ھم زمین کے ماتھا ریڈ کرنے سے پہلے ھی سر اٹھا لیتے ھیں یوں جیسے جاتے ھیں ویسے آ جاتے ھیں نہ کچھ ڈیلیٹ ھوتا ھے اور نہ ھی کچھ کاپی پیسٹ ھوتا ھے ـ
اللہ کے قدموں میں سر ھو اور کچھ لئے بغیر اٹھ کر گھر آ جاؤ تو نماز اک مزاق ھی بن کر رہ جاتی ھے ـ

جماعت میں مجبور بھی ھوں تو نوافل میں کسر نکال لینی چاھئے ،،
کم از کم پانچ سات دفعہ کی تسبیح کے بعد ھی آپ دنیا کی ٹرانس سے نکل کر مینوئل پر آئیں گے ـ
اور آپ کو اپنی ہیئت کا احساس ھو گا کہ آپ اس وقت کس پوزیشن میں ھیں ،
ھاتھ کہاں ھیں ،
ماتھا کہاں ھے ،
گھٹنے اور پاؤں کہا ھیں ،
جو جو چیز آپ کو یاد آتی جائے گی سمجھ لیں کہ وہ وہ چیز حقیقت میں recognize ھو رھی ھے ،
اس کے بعد اب تسبیح کو اتنی آواز اور کیفیت کے ساتھ پڑھیں کہ آپ کے کان سن سکیں ۔۔۔
اور پھر تشھد میں بیٹھ کر دو سجدوں کے درمیان کی دعا اپنی زبان میں یاد کر رکھیں اس کو پڑھیں ،
اے اللہ مجھے معاف فرما دے ،
اور مجھ پر رحم فرما ،
اور مجھے ھدایت دے دے،
اور مجھے عافیت عطا فرما ،
اور مجھے رزق عطا فرما اور میرے دکھوں پر مرھم پٹی کر دے ـ

اللھم اغفر لی وارحمنی واھدنی وعافنی وارزقنی واجبُرنی ،،
رزق کا مفہوم ذھن میں رکھیں کہ اس میں گندم اور چاول ھی نہیں بلکہ مال ،اولاد ، صحت ، بصارت ،سماعت اور خوشیاں سب رزق کہلاتی ھیں ،،

اب آپ دوسرے سجدے کے لئے پک چکے ھیں ،،
پہلے سجدے میں اسپیس بنی تھی دوسرے سجدے میں اس دعا کو پیسٹ کر دیں ،
صرف دو رکعتوں کے بعد ھی آپ اپنا وزن خود محسوس کرنا شروع کر دیں گے ،
اپنا آپ کبھی خالی خالی محسوس نہیں ھو گا ،
اور اب آپ کو اگلی نماز کا انتظار رھے گا ـ
کیونکہ نماز میں ثواب کے ساتھ سواد بھی آیا ھے
اور یہی سواد لذتِ آشنائی کہلاتا ھے ..!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

بیوی کو کس طرح خوش رکھا جائے۔۔؟

بیوی کو کس طرح خوش رکھا جائے۔۔؟ اہلیہ کو خوش رکھنا گو کہ ہے تو بہت مشکل کام مگر اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے سیانوںکی جانب سے 10 رہنما طریقے بتائے گئے ہیں جن پر عمل کرکے ایک خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ 1۔ ان 10 آسان طریقوں میں سے سب سے پہلا یہ ہے کہ اہلیہ کا موڈ خوشگوار رکھنے کے لیے مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ کسی بھی قسم کا تحفہ ضرور دیا جائے ۔ 2۔ دوسرے نمبر پر آتا ہے بیوی کی باتوں کو اہمیت دینا، آپ کی اہلیہ جب بھی آپ سے کوئی بات کریں تو اپنی تمام تر توجہ ان کی جانب مرکوز رکھیں اور ان کی بات کو غور سے سنیں تاکہ ان کی بات کو ٹھیک سے سمجھا جا سکے۔ 3۔ اس کے بعد باری آتی ہے اہلیہ کی آپ سے اور گھر سے متعلق خدمات کو سرہانے کی، مطلب یہ کہ اپنی اہلیہ کی دن بھر کی مصروفیات سے متعلق کام پر حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی جانب سے پیش کی گئی خدمات کو اچھے لفظوں میں سراہایا جائے۔ 4۔ چوتھا آزمودہ طریقہ ہے کہ اپنی اہلیہ کو اس بات کا بار بار احساس دلایا جائے کہ ان کی اہمیت آپ کی زندکی میں بہت زیادہ معنی رکھتی ہےاور آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو چکے ہ...