نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میرے پاس تم ہو

تمہارا فون سن کر آرہا ہوں
وہ جو میرے وہاں پہنچنے سے پہلے تم نے شہوار سے بات کی تھی
اسنے ساری کی ساری ریکارڈ کرلی تھی
اسلام آباد کے ہوٹل میں شہوار کے ساتھ لی گئی تمہاری سیلفیاں بھی دیکھیں,
انکو دیکھتے ہوئے یہ نئیں دیکھا
کہ تم نے وہاں بلیک کلر کا ڈریس نئیں پہنا ہوا تھا
میں نے یہ دیکھا
تمہاری مسکراہٹ کتنی سچی ہے
ایک دم کھل گئی ہو تم
میں یہی تو چاہتا تھا
کہ جب تم ہسو
تو لگے کہ دنیا میں کوئی غم نہیں
اور جب تم کھل جاؤ
تو میں بتاؤں کہ پھول اسطرح کھلتے ہیں,
اب وہ سالا بازی لےگیا مجھ پر,
اسنے وہ سب تمہیں دے دیا جو میں بس سوچ سکتا تھا
دے نئیں سکتا
اس دن میں نے گھٹنے ٹیک دئے اسکے سامنے
کہہ دیا
میں ہار گیا ہوں
اور تم جیت گئے
میں وہاں محبت بچانے گیا تھا
اور بڑی مشکل سے عزت بچا کے آیا ہوں
وہ بھی پتہ نہیں بچتی ہے کہ نئیں
کل سے لوگ سوال پوچھینگے
اور میں جھوٹ بولنے لگونگا ..!!

میرے پاس تم ہو

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...