تمہارا فون سن کر آرہا ہوں
وہ جو میرے وہاں پہنچنے سے پہلے تم نے شہوار سے بات کی تھی
اسنے ساری کی ساری ریکارڈ کرلی تھی
اسلام آباد کے ہوٹل میں شہوار کے ساتھ لی گئی تمہاری سیلفیاں بھی دیکھیں,
انکو دیکھتے ہوئے یہ نئیں دیکھا
کہ تم نے وہاں بلیک کلر کا ڈریس نئیں پہنا ہوا تھا
میں نے یہ دیکھا
تمہاری مسکراہٹ کتنی سچی ہے
ایک دم کھل گئی ہو تم
میں یہی تو چاہتا تھا
کہ جب تم ہسو
تو لگے کہ دنیا میں کوئی غم نہیں
اور جب تم کھل جاؤ
تو میں بتاؤں کہ پھول اسطرح کھلتے ہیں,
اب وہ سالا بازی لےگیا مجھ پر,
اسنے وہ سب تمہیں دے دیا جو میں بس سوچ سکتا تھا
دے نئیں سکتا
اس دن میں نے گھٹنے ٹیک دئے اسکے سامنے
کہہ دیا
میں ہار گیا ہوں
اور تم جیت گئے
میں وہاں محبت بچانے گیا تھا
اور بڑی مشکل سے عزت بچا کے آیا ہوں
وہ بھی پتہ نہیں بچتی ہے کہ نئیں
کل سے لوگ سوال پوچھینگے
اور میں جھوٹ بولنے لگونگا ..!!
میرے پاس تم ہو
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں