نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اک دن اساں اڈھ جانا

کھانے میں اتنی مرچیں ہیں پتہ نہی کب کھانا بنانا آئے گا اس چڑیل کو اماں آپ خود کھانا بنا لیا کریں ایسا کھانا مجھ سے نہیں کھایا جاتا
اماں بولیں بیٹا یہاں بنانا سیکھ جائے گی تو سسرال میں اچھا بنائے گی اس لیے اِسی سے بنواتی ہوں سب.
مطلب اس کی شادی تک برداشت کرنا پڑے گا. اب اماں مجھے غصے سے گھورنے لگیں.
پتہ ہی نہیں چلا کب وقت گزر گیا اور اس چڑیل کی شادی کا دن آگیا
صبح سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کچھ چھیننے والا ہے وہی بہن جس سے بات بات لڑتا تھا آج جان سے بھی پیاری لگ رہی تھی آج صرف اسی کی فکر تھی پھر رخصتی کے ٹائم خود کو بچوں کی طرح روتے دیکھا یوں لگ رہا تھا دنیا لٹ گئی ہو 😢
ہر وقت بہنوں سے لڑ لڑ کے مگر جب یہ وقت آتا ہے جیسے جسم سے جان ہی نکل جاتی ہیں
اللہ پاک سب کی بہنوں اور ماں باپ کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے آمین..!! 😢

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...