نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیا کبھی آپ نے سوچا۔۔۔۔؟

آپ نے کبھی یہ بات نوٹس کی ہے کہ یورپ، امریکہ اور دیگر مغربی دنیا کتنی پُرسکون ہے، وہاں اول تو کوئی دہشتگردی ہوتی نہیں ہے اگر ہوتی بھی ہے تو فی الفور اُسکا قلع قمع کر دیا جاتا ہے، راتوں رات قصور واروں کو پکڑ کے منطقی انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر شخص ایسی جگہوں پر جانے کا رہنے کا اور سیر سپاٹے کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔

اور دوسری طرف ہے ایشیاء، افریقہ اور مشرق وسطیٰ جہاں شاید ہی کوئی دِن ایسا گزرے جب کوئی دہشت گردی نہ ہو، یہاں زندگی گزارنا زندگی کا سب سے مشکل کام تصور کیا جاتا ہے، یہاں انسانوں کی جان و مال اور عزت و ناموس اِس قدر بے معنی ہوتے جا رہے ہیں کہ لوگ محفوظ جگہوں پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

آخر ایک زمین پر یہ دو طرح کے قانون کیوں رائج ہیں؟
👈تو اِس کی سب سے بڑی وجہ تو مسلمانوں سے نفرت ہے، ہندو، عیسائی اور کیمونسٹ انتہاء پسند قوتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ مسلمان امن و سکون میں رہیں۔

👈دوسری وجہ بزنس اور کاروباری نوعیت کی ہے، امریکہ، یورپ اور مغربی ممالک کی حکومتیں اور تھنک ٹینک نہیں چاہتے کہ ایشیاء، افریقہ اور عرب ممالک اُن کے ہم پلہ آ جائیں، سو یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہاں ایسی کسی بھی دہشتگردی اور خوف و ہراس کو پنپنے نہیں دیتے جس کے باعث کاروباری لوگ خوف زدہ ہوں۔ اور دوسری طرف یہی لوگ ایشیاء، افریقہ اور عرب ممالک میں دہشتگردی کی فضاء بناتے ہیں، تاکہ یہ آپس میں ہی اُلجھتے رہیں۔

👈تیسری وجہ ہے اسلحے اور جدید ہتھیار کی فروخت، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اسلحے اور جدید ہتھیاروں کی بڑی بڑی کمپنیاں امریکہ اور یورپ وغیرہ میں موجود ہیں، جو سالانہ کئی بلین ڈالرز کا کاروبار کرتی ہیں، تو اگر ایشیاء، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و سکون ہو گیا تو پھر وہ اپنا اسلحہ کہاں فروخت کریں گے؟

👈اور چوتھی وجہ اِن سب سے بڑی ہے اور وہ ہے نام نہاد اقوام متحدہ کی جانبدارانہ پالیسیز۔ آپ غور کیجئے اقوامِ متحدہ کی ساری توجہ صرف و صرف امریکہ، یورپ اور اِسکے اردگرد ہی رہتی ہے، جس کی سب سے بڑی مثال ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور لندن ٹرین انسیڈنٹ کے بعد بننے والے ایسے سخت قوانین ہیں کہ پھر کبھی وہاں اُس نوعیت کا واقعہ دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ لیکن دوسری طرف ایشیاء، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ ہیں جن میں سرِ فہرست کشمیر، فلسطین، چیچنیا، سوریا، یمن اور برما کی صورتحال ہے جہاں روزانہ کتنے زندگی کے چراغ گُل کر دئیے جاتے ہیں، کتنی ہی عزتوں کو تار تار کیا جاتا ہے، کرفیو سے کتنے ہی بے قصور اور مظلوم لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی جاتی ہیں، لیکن اقوامِ متحدہ نے کبھی اِس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔

اب تو اللہ تعالیٰ سے ایک ہی دُعا ہے کہ وہ غیب سے مسلمانوں کے حالات بہتر کر دے، کیونکہ مسلم حکمرانوں اور مسلم عوام میں تو اتنا دم نہیں ہے کہ وہ اقوامِ عالم سے اپنی بات منوا سکیں اور اپنے حق کیلئے نکل سکیں۔ یہ مسلم لوگ اپنے آپ سے تو لڑ سکتے ہیں، لیکن غیروں کے سامنے اِن کا سارا جوش و جذبہ جھاگ کی طرح بہہ جاتا ہے۔“

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...