نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہاں تمہیں اجازت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تحریر  محمد اسمٰعیل بدایونی  
ہاں تم کو اجازت ہے
بنامِ تہذیب و ترقی
تمہیں اجازت ہے
تم آزماؤ
جراتِ جہالت
طاقتِ ذلالت
مسل دو انہیں کہ کیا وقعت ہے ان کی کمزور جانوں کی  ۔۔۔۔۔۔
بہت دور تک  کوئی وارث نہیں ان کا
کچل دو انہیں کہ یہ مسلمان ہیں
نہیں حق ہے حاصل انہیں  
عزت سے جینے کا
انہیں جہاں قتل کر سکو  قتل کرو
جہاں ان کی عصمتوں سے
کھیل سکو رج کر کھیلو
جہاں ان کی املاک لوٹ سکو
دل کھول کر لوٹو
جہاں انہیں جلا سکو بھسم کردو
جہاں ان کی فکر پر شب خون مار سکو  مار دو
تمہیں اجازت ہے
ہاں تمہیں اجازت ہے
پھر اس کشت وخون کی ہولی کے بعد ۔۔۔۔۔درندگی  بنامِ تہذیب مناؤ
انسانیت کی قبا زیب تن کرو
مذمت کرو اور کہہ دو
مسلمانوں کو روشن خیال بننا ہو گا
ہاں تمہیں اجازت ہے
کیونکہ تم فاتح جو ٹھہرے 
تمہیں یہ زیب دیتا ہے ان کے جذبات کو روندو
ان کے خیالات کو بدلو
لگاؤ آزادی اظہار کے  بے روح نعرے تم
جلادو علم کے مرکز اور مقدس کتابوں کو بدل دو مسجدوں کو 
مندر وکلیسا میں
تمہیں اجازت ہے
ہاں تمہیں  اجازت ہے
پھر اس ہجوم ِ حشرات الارض میں سے کوئی دیوانہ جاگے تو
چڑھاؤ اس کو سولی پر 
بناؤ نشاں عبرت
ہاں تمہیں اجازت ہے 
بنامِ تہذیب و ترقی
تمہیں اجازت ہے
کوئی تم کو نہ روکے گا 
نہ مسٹر نہ مولانا
کوئی گم عیش و عشرت میں
کوئی من مانے تصوف میں
یہاں سبھی گفتار کے غازی 
بلند و بانگ ہیں دعوے 
حکومت کے، وزیروں کے
تماشہ روز ہوتا ہے 
تماشہ روز کرتے ہو
تم کو اجازت ہے
ہاں تم کو اجازت ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...