مُجھے تُم عام رہنے دو
یونہی بے نام رہنے دو
ضرورت ہی نہیں کوئی
مُجھے مَہتاب کہنے کی
سُہانا خواب کہنے کی.
کہ تَھل میں آب کہنے کی
مجھے تم عام رہنے دو
یونہی بےنام رہنے دو
مُجھے مَغرور کر دیں گی
خُودی سے چُور کر دیں گی
تُجھ ہی سے دُور کر دیں گی
تُمہاری شاعری۔غزلیں
مُجھے مَجبور کردیں گی.
مجھے تم عام رہنے دو..
یونہی بے نام رہنے دو
بِگاڑو مت میری عادت
نِگاہوں کو حَیا کہہ کر.
لبوں کو بے وَفا کہہ کر.
ہنسی کو اِک اَدا کہہ کر
اداؤں کو قضا کہہ کر...
مُجھے بَدنام کرنے کی،،
ضرورت ہی نہیں کوئی
یونہی گُمنام رہنے دو
مُجھے تُم عام رہنے دو
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں