نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دلداری

لوگ کہتے ہیں کہ اگر عورت میں دلداری ہو تو مرد اپنی پختہ بری عادتیں چھوڑ دیتا ہے _____
یہ دلداری کیا ہوتی ہے ؟ کہاں سے سیکھی سکھائ جاتی ہے ؟
بچپن سے یہی سنا ہے کہ مرد کے دل کا راستہ اس کے پیٹ سے ہو کے گزرتا ہے سو عورت کو اچھا کھانا پکانا سکھایا جاتا یے -دلداری نہیں -
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ایسے لوگوں کو جن کی پختہ عادتیں کسی طرح بھی نہیں چھوٹتیں ___
شوہر کو خوش رکھنے کے لئے ایک عورت کس حد تک جاتی ہے لیکن بعض اوقات ساری مشقت کا حاصل ایک جملہ "میں زندگی میں کبھی تم سے خوش نہیں ہوا "
اگر ایک عورت کے ناشکرے پن کا ذکر کیا جاتا ہے کہ گھر ہے کھانا پینا کپڑا لتا سب ہے اولاد یے اور عورت کو کیا چاہیئے تو کیا عورت یہ سب نہیں دیتی ؟ پھر مرد کو کیا چاہیئے ؟
ہماری عورتوں کی تربیت ان کو ذہنی غلام بننا سکھاتی ہے ساتھی نہیں، کیونکہ وہ غلاموں کی گود میں پرورش پاتی ہیں ، انہیں غلام کس نے بنایا ؟ ___
پھر غلاموں سے گلہ کیوں ؟
ایک لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اس کی تربیت شادی کے لئے شروع کر دی جاتی ہے -شوہر کی خدمت کے گر سکھائے جاتے ہیں ،سسرال والوں کو خوش رکھنا ہی عورت کا فرض ہے اور یہ فرض پورا کر کے ہی اسے اچھی عورت کا سرٹیفیکیٹ ملتا ہے ____
فلک نامے سے انتخاب ۔۔
کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...