ابن آدم! تو نے یہ عجب کھیل رچا رکھا ہے
اپنے ہر گناہ کو عورت کے سر لگا رکھا ہے!!
ننگا گوشت تو کتا بھی نہیں چھوڑتا۔۔۔دیتے ہو یہ مثال
یعنی مسجود ملائک کو کتوں سے بد تر بتا رکھا ہے!!
پوچھے گاجو خدا، کیوں نوچتے کھسوڑتے رہے بنت حوا کو
لباس عورت نے بہکا ڈالا، دینے کو یہ بہانہ بنا رکھا ہے؟؟
سر تا پا نظروں سے کرتاہے تو ہر عورت کا ایکسرہ
دس مردوں کی قوت سے پیدا "مردود" کا چلن اپنارکھا ہے!!
منڈی بنائے تو، کوٹھے پہ جائے تو، قیمت لگائے تو
ہوس اپنی بجھانے کے واسطے،عورت کو رنڈی بنا رکھا ہے
یہ سینما، یہ بار، یہ فلمیں، ناچ گاناسب کا سرپرست مرد ہے
مرد کی تسکین کو مرد نے ہی یہ سارا کاروبار رچا رکھا ہے
سفید کفن میں لیپٹی عورت پہ ٹھنڈی کی ہوس تو نے
تیرے درندگی نے جنگلی درندوں کو بھی سہما رکھا ہے!!
ارے او خبیثو!! کم سن معصوم بچیوں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہو
تیری مردانگی نے انسانیت کو بھی نظروں سے گرا رکھا ہے!!
حصول علم کو جاتی باپردہ دوشیزہ کو بناتے ہو نشانہ اپنا
پھر دیتے ہو دلیل کہ بنت حوا کی بے حیائی نے بہکا رکھا ہے؟؟
نہیں محفوظ تری حیوانگی سے تیری محرمات بھی
خنزیر پنا مانگے جس سے، ایسا طور اپنا رکھا ہے!!
نہ کر اپنے قلب و نظر کی گندگی کو لباس حوا سے مشروط
کیا خدا نےتیرے اعمال کی ذمہ دار عورت کو ٹھہرا رکھا ہے؟؟
بستی ہیں تیرے دیس میں کافروں کی بےحیا بیٹیاں بھی
سنبھال اپنا ایمان، کیوں احکام الہی کو مذاق بنا رکھا ہے؟؟
یہودیوں کی نم برہنہ حسینائیں بھی جنہیں بہکا نہ سکے
مرد مسلم ہے وہ جس نے اپنے نظروں کو یوں جھکا رکھا ہے!!
بنت اسلام!! سنبھال تو بھی چادر اپنی، بی بی فاطمہ کی لاج رکھ
کردار اپنا فولاد بنا، تری نرمی سے ابن آدم نے فائدہ اٹھا رکھا ہے!!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں