نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رزق کی قدر بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں

ناظرین کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب میں ایک پاکستانی لڑکا کفیل کے ساتھ کام کرتا تھا وہ سعودی کفیل بہت اچھا تھا پھر ایک دن اس پاکستانی لڑکے کے بھائی کی شادی ہو رہی تھی اس نے کفیل کو بولا میں نے گھر جانا ہے کفیل نے اسے پیسے دیے اور گھر جانے کیلئے چھٹی لگا دی جب لڑکا گھر پہچا تو شادی ہو رہی تھی اس نے خوب مزے اڑائے اور شادی کی رات ایک محفل سجائی جس میں لڑکے نے خوب پیسے محفل میں ناچنے والوں پر پانی کی طرح بہائے جب وہ لڑکا سعودی عرب واپس گیا تو کفیل اس کو آئرپورٹ سے لینے گیا جب گاڑی میں دونوں سعودی کے گھر جا رہے تھے لڑکے نے بہت فخر سے وہ ویڈیو دیکھائی جس  میں وہ لڑکا پیسہ پھنکتے پیش پیش نظر آ رہا تھا سعودی ویڈیو دیکھتا رہا اور استغفراللہ پڑھتا رہا جب ویڈیو ختم ہوئی تو سعودی نے جو تاریخی الفاظ بولے وہ  ایک مثال بن گئے
سعودی نے بولا ۔۔کاش مجھے اس رب کا خوف کے ڈر نہ ہوتا
جس کے قبضے میں میری جان ہے تم کو اسی وقت میں گاڑی کے نیچے دے کر اسی طرح ذلیل کرتا جس طرح تم نے اللہ تعالی کے رزق کو ذلیل کیا۔
لیکن جاو دفعہ ہو جاو اسی وقت اس نے خروج لگایا اور پاکستانی کو واپس بھیج دیا
اپنے رزق کو پاوں تلے ذلیل کرنا بہت جرم ہے
حکومت کو چاہیے اس پر مکمل پابندی لگائے کسی یتیم یا مسکین کو تو یہ ایک روپے بھی نہیں دیتے اور مجروں پر لاکھوں ضائع کر دیتے ہیں....

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...