نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ایک المیہ

بازار میں خریداری کرتے وقت اگر کسی چیز کو پکڑانے میں کوئی مرد آپ کی مدد کردے اور آپ مسکرا کر اسے شکریہ ادا کردیں تو میرے بھائ وہ عورت "ہنسی تو پھنسی" کو سچ ثابت نہیں کر رہی۔

اگر کسی رش کی جگہ پر کوئی خاتون تیزآواز میں بات کرتی سنائی دے تو صاحب اسکا ہرگز مطلب نہیں کہ وہ آپ کو متوجہ کر رہی ہے۔
اگر وہ کسی رکشے والے یا کیب ڈرائیور کو یہ کہہ دے کہ اسے جلدی پہنچنا ہے تو بھائی صاحب وہ ڈیٹ پر نہیں جا رہی۔

اگر موبائل پر بات کرتے کرتے وہ کمرے سے باہر یا آفس کے کوریڈور کی طرف چلی جائے تو میاں اسکو سگنل کا مسئلہ ہوسکتا ہے وہ اپنے یار سے بات نہیں کر رہی۔

اگر آفس میں داخل ہوتے ہوئے آپ کو کسی اچھے پرفیوم کی خوشبو آئی ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کروارہی ہے آپ کے سگریٹ، پان اور گھٹکوں چھالیے کی بدبو سے بچنے کے لئے بھی یہ حربہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگر موٹر سائیکل پر کوئی لڑکی بائک چلانے والی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر یا کمر پر ہاتھ رکھے جارہی ہے تو وہ ضروری نہیں وہ اسکا بوائے فرینڈ ہی ہو۔

اگر کوئی خاتون روزانہ میک اپ کر کے دفتر آتی ہیں تو ضروری نہین اسے خود نمائی کا شوق ہو ہوسکتا ہے وہ چہرے کی تھکان اور بڑھاپے کو چھپانے کے لئے یہ جتن کرتی ہو۔

سوشل میڈیا پر اگر کسی پوسٹ پر کوئی خاتون لائک یا کمنٹ کردے تو محترم آپ اتنے باولے نہ ہوں وہ ان صاحب کو جانتی ہوگی، آپ بلا وجہ فیس بک ریکوئسٹ بھیج کر اپنا راستہ نہ بنائیں۔

اگر کوئی لڑکی اکیلے شاپنگ کرتے، بلز بھرتے، بینک کے چکر لگاتی یا پھر پھل سبزی گوشت کی خریداری کرتی دکھائے دے تو اسے گھومنے کا چسکہ نہیں اسکا کوئی بھائی نہیں ہوگا۔
تو دوستو اب مندرجہ بالا تمام تصورات و خیالات سے چھٹکارا پانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اگر آپ بھی ایسا سوچتے ہیں تو اپنی اصلاح کرلیجئے۔
__________________
(ذرا نہیں پورا سوچیے گا)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...