نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کسی کو سنار ملے تو بتانا سنا ھے اس کی بیٹی بڑی خوبصورت ھے

ایک بادشاہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ ایک تالاب پر نہانے کیلئے گیا۔
وہاں کچھ لڑکیاں پہلے سے نہا رہی تھیں۔
بادشاہ کی سواری کو آتا دیکھ کر سب لڑکیاں باہر آ گئیں۔
ان میں سے ایک لڑکی بادشاہ کو پسند آ گئی۔
بادشاہ اپنے محل میں واپس آیا۔

لیکن اس کی نظر کے سامنے بار بار اسی لڑکی کی تصویر آ رہی تھی۔
بادشاہ کا من کسی کام میں نہیں لگ رہا تھا۔
رات ہوئی۔
ساری رات اسی کے بارےیں سوچتا رہا۔
صبح اس نے سپاہیوں کو حکم دیا جاؤ پتا کرو وہ لڑکی کہاں رہتی ہے۔
سپاہیوں نے پتا لگایا ۔
اس لڑکی کا باپ سنار تھا۔
بادشاہ نے سنار کو دربار میں بلایا۔
4 دن گزرنے کے بعد بھی سنار دربار میں نا آیا۔
بادشاہ نے دوبارہ بلوایا۔
اس بار 8 دن گزر گئے لیکن سنار نا آیا۔
بادشاہ کو غصہ آ گیا۔
اس نے سنار کو گرفتار کرنے کیلئے سپاہی بھیجے۔
جب سپاہی سنار کے گھر پہنچے تو گھر کو تالا لگا ہوا تھا۔
بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ سنار کو ڈھونڈو۔
ہر جگہ سنار کو ڈھونڈا گیا لیکن سنار نا ملا۔
آخر انکو ایک ترکیب سوجھی۔
شہر بھر میں اعلان کرا دیا گیا کہ جو بھی سنار کو ڈھونڈے گا اسکو ایک۔ کلو سونا دیا جائے گا۔
ایک ہفتہ گزر گیا لیکن پھر بھی سنار کی کوئی خبر نہیں۔
پھر اعلان کیا کہ جو بھی سنار کو چھپنے میں مدد کرے گا اسے سولی پر لٹکا دیا جائے گا۔
ایک ہفتہ، مہینہ گزر گیا پھر بھی سنار کا کچھ پتا نہیں چلا۔
پھر بادشاہ نے اعلان کیا۔ کہ اگر سنار نا ملا تو وہ پوری عوام کو سا دے گا۔
پھر بھی سنار نا ملا۔
آخر میں بادشاہ نے اس پاس کے بادشاہوں سے مدد مانگی۔
انہوں نے بھی سنار کو اپنے اپنے ملک میں ڈھونڈا۔
لیکن۔ انھیں بھی سنار نا ملا۔
بادشاہ مایوس ہو گیا۔
ایک دن بادشاہ نے ایک سپنا دیکھا۔
سپنے میں اسی تالاب کو دیکھا اور سپنے میں ہی بھاگ کر تالاب کے پاس گیا۔
لیکن وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔
اداس ہو۔ کر جب پیچھے پلٹا تو ایک بزرگ نظر آئے۔
انہوں نے تالاب کے دوسری طرف ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کیا۔
اور کہا بیٹا تم جس کو ڈھونڈ رہے ہو وہ وہیں ہے۔
بادشاہ چونک کر اٹھا اور سپاہیوں کو۔ لے کر اسی تالاب کے پاس گیا۔
وہاں اسے سپنے والی جھونپڑی نظر آئی بادشاہ خوش ہو گیا۔
جب جھونپڑی میں گیا تو وہاں ایک بزرگ اور ایک لڑکی نظر آئے۔
لیکن وہ لڑکی خوبصورت نہیں تھی۔
اور اس کا باپ بھکاری تھا سنار نہیں تھا۔
آخر تنگ آ کر بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو ناکارہ قرار دیا ۔
اور کیس ایف آئی اے کے سپرد کر دیا۔
پھر بھی سنار نہیں ملا۔
اور آخر بادشاہ کا، عوام کا، سپاہیوں کا، دوسرے ملک کے بادشاہوں کا اور ایف آئی اے والوں کا ٹائم ایسے برباد ہوا سنار کو ڈھونڈنے میں۔
جیسے آپ کا اس پوسٹ کو پڑھنے میں ہوا جس کا کوئی مطلب نہیں۔ غصہ نا کرنا میرا بھی بہت ٹائم برباد ہوا پوسٹ کو لکھنے میں۔
اور ہاں ایک بات یاد رکھیں۔
پلیز اگر سنار ملے تو ضرور بتانا اس کی بیٹی بڑی خوبصورت ہے
😋😂🤣😂🤣😂🤣😂

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Latest version with WiFi wide angle 🌃 moot automatically set

<script type="text/javascript"> amzn_assoc_placement = "adunit0"; amzn_assoc_search_bar = "true"; amzn_assoc_tracking_id = "blueco09-20"; amzn_assoc_search_bar_position = "bottom"; amzn_assoc_ad_mode = "search"; amzn_assoc_ad_type = "smart"; amzn_assoc_marketplace = "amazon"; amzn_assoc_region = "US"; amzn_assoc_title = "Digital iconic cemras latest version "; amzn_assoc_default_search_phrase = "Cemras"; amzn_assoc_default_category = "All"; amzn_assoc_linkid = "bcb01174c50859143bb384162f8a5c03"; </script> <script src="//z-na.amazon-adsystem.com/widgets/onejs?MarketPlace=US"></script>

تلخ حقیقت"🌼

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟ جواب۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔ ۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بول...

سبق آموز تحریر

چند دن پہلے کتے کا گوشت بیچتے ایک قصاب پکڑا گیا لیکن اس مرد کے بچے نے عدالت میں جو مؤقف اختیار کیا وہ ایک بار ضرور پڑھیں۔ سبق آموز تحریر کچھ دِنوں پہلے ایک قصائی کُتے کا گوشت فروخت کرنے کے جُرم میں گرفتار ہوگیا. جب اُسے جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا، تو جج نے پُوچھا : کیا یہ سچ ہے کہ تُمھارے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے؟ مُلزم : جی جناب! یہ سچ ہے. جج : تُمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اِنسانوں کو کتُوں کا گوشت کھلاتے ہو؟ مُلزم : نہیں جناب میں اِنسانوں کو کُتوں کا گوشت نہیں کِھلاتا. جج : کیا مطلب ابھی تو تُم نے خُود اِقرار کیا؟ مُلزم : ہاں جناب میں نے اِقرار کیا کہ میرے پاس سے کُتے کا گوشت پکڑا گیا ہے، لیکن وہ گوشت میں نے کسی اِنسان کو نہیں کھلایا... جج : تو پھر وہ گوشت کس کو کھلایا؟ ملزم : جج صاحب میں نے وہ کُتوں کا گوشت کُتوں کو ہی کھلایا... جج : کیا مطلب؟ مُلزم : مطلب یہ ہے جج صاحب کہ میرے پاس ہمارے ضلع کے بڑے بڑے افسران ۔ سیاستدانوں کے چیلے اور مفت خورے آتے تھے اور مُفت میں چھوٹا گوشت لے کر جاتے تھے، اور نہ دینے پر جُرمانہ کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے. بکری کے آٹھ، نو کلو گوشت ...